خواتین اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۰
وہ خدا کے سایہ میں چلنے لگتے ہیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حریفوں پر جو حیرت انگیز سیاسی کامیابی حاصل کی اور جس طرح اپنے لائے ہوئے دین کو ایک پورے جغرافیہ پر غالب کر دیا، وہ ساری انسانی تاریخ میں اپنی قسم کا پہلا واقعہ ہے۔ ہمارے قدیم مورخین اور سیرت نگار جب آپ کے ان عظیم کارناموں پر پہنچتے ہیں تو یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ " آپ پر وحی نازل ہوتی تھی اور آپ خدا کی ہدایت کے مطابق سارے اقدامات کرتے رہتے تھے۔ یہ انداز تعبیر اتنا عام ہے کہ روایت پرست مورخین تو درکنار، ابوالحسن ماوردی، ابو علی الفمرار، ابن تیمیہ، ابن قیم اور ابن قتیبہ جیسے لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔
سیرت کے اس انداز کو بظاہر آپ کی عظمت و تقدس کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔ مگر در حقیقت یہ پیغمبر اسلام کی تصغیر ہے۔ یہ آپ کو گائیڈڈ میزائل کی سطح پر پہنچا دینا ہے۔ بلاشبہ آپ اللہ کے نبی تھے اور اللہ کی طرف سے آپ کو ہدایات پہنچتی رہتی تھیں۔ مگر اسی کے ساتھ آپ ایک اعلیٰ ترین انسان اور اعلیٰ ترین مومن بھی تھے۔ آپ عام انسانوں کے لئے ایک معیاری نمونہ تھے کہ کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جب اپنے آپ کو دین حق کے لئے وقف کرتا ہے اور خدا کی یاد اور اس کی محبت میں مشغول ہو جاتا ہے تو خدا سے اس کا لازوال تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ وہ حسن و کمال کے سر چشمہ سے اس طرح مربوط ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس سے اس کی سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ دائمی طور پر اس کے سایہ میں چلنے لگتا ہے ۔
پیغمبر اسلام کا تعلق اپنے رب سے صرف جبریں کے ذریعہ ہی نہ تھا، بلکہ براہ راست بھی تھا۔ اور یہ وہی تعلق تھا جو ہر ایک کے لئے اس کے حوصلہ کے بمقدر کھلا ہوا ہے۔ یہ تعلق قائم ہوتا ہے۔ قرآن میں تدبّر سے، نماز میں مشغول ہونے سے، کائنات میں غور وفکر سے، ہر آن اپنے رب کو یاد کرنے سے، صبر و شکر اور قناعت کی زندگی اختیار کرنے سے، دعا و استغفار میں میں اپنے آپ کو لگائے رہنے سے ۔ اللہ کی یاد میں کھو جانے سے۔ بندہ مومن جب اس طرح اپنے آپ کو خدا سے جوڑتا ہے تو اس کو حیرت انگیز طور پر ایک بے پناہ بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ وہ اشیاء کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھنے لگتا ہے ، وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ ” خدا کی نظر سے دیکھے، خدا کے پاؤں سے چلے اور خدا کے ہاتھ سے پکڑے“ پیغمبر اسلام نے اپنے حریفوں سے جو سیاسی معاملات کئے ، وہ اگر پیشگی طور پر موصول شدہ ہدایت کے تحت تھے تو ایسا کیوں ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر آپ کے کسی اقدام یا فیصلہ پر گرفت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو ایسا نہ کرکے ایسا کرنا چاہئے تھا۔ یہ خود قرآن میں ایک واضح مثال ہے جس سے اصل معاملہ کو سمجھا جا سکتا ہے۔
عرب دنیا میں مغرب کا سیاسی کنٹرول تقریباً ۵۰ سال رہا۔ اس کا آغاز ۱۸۸۲ میں مصر پر برطانیہ کے قبضہ سے ہوا، اور ۱۹۵۰ میں اردن اور عراق سے برطانوی قبضہ کے خاتمہ کے ساتھ ختم ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues