Al-Risala · March 1977 · page 21

اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۱

تعریف سے خوش ہونا اور تنقید سے بھچڑنا، پستی کی علامتیں ہیں۔

فانی بدایونی (۱۹۰۳- ۱۹۸۵) نے کہا ہے کہ دنیا کی رنگینیاں انتہائی بے حقیقت ہونے کے باوجود اپنے ظاہر میں اتنی پر کشش ہیں کہ انسان ان کو حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص دھوکا دینے والے ان مناظر سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل ! اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اٹھایا پایا اس میں شک نہیں کہ دنیا کی رنگینیوں سے اپنے کو اوپر اٹھا لینا سخت مشکل کام ہے۔ تاہم کم تعداد میں سہی ، ایسے لوگ پھر بھی کچھ نہ کچھ مل جاتے ہیں، مگر اس کے بعد ” اوپر اٹھنے “ کی ایک اور سطح ہے اور اس کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو کامیاب افراد کی تعداد کم یابی سے گزر کر نایابی تک پہنچ جائے گی۔ یہ ہے اپنے آپ کو مقید فکر (CONDITIONED THINKING) سے باہر نکالنا۔ ہر آدمی جن حالات میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے، اس کے لحاظ سے ماحول اور روایات کا ایک ہالہ اس کے گرد قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک فکری مدار بن جاتا ہے جس میں وہ گھومتا رہتا ہے۔

اس غیر محسوس مدار سے باہر آکر سوچنا اور مکمل طور پر آزادانہ رائے قائم کرنا اس قدر دشوار ہے کہ وہ لوگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں جو آزادانہ فکر کے علم بردار بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ خلائی راکٹ جب اپنی گردش کے دوران زمین کے مدار سے نکل کر دوسرے سیارہ کے مدار میں داخل ہوتا ہے تو خول کے نقطہ پر دھماکہ کے ساتھ نبر دست آن از پیدا ہوتی ہے۔ یہی قانون شاید انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ کوئی شخص اپنے مدار سے نکل کر آزاد شعوری مدار میں اس وقت داخل ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے اس فکری خول کو توڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو جائے جو روایات اور ماحول کے اثر سے محض اتفاقی طور پر اس کے گرد بن گیا ہے۔

کوئی شخص کب اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو روایتی مدار سے نکال کر آزاد مدار کی طرف لے جانے کا عمل شروع کر سکے، اس کا ایک ہی جواب ہے: جیسا کہ اپنے آپ کو ایسا بنانے میں کامیاب ہو جائے کہ نہ ذاتی تعریف سے اسے خوشی حاصل ہو اور نہ ذاتی تنقید اسے بری لگے۔ کوئی آدمی کس مقام پر ہے، اس کو جاننے کی یہ واحد یقینی پہچان ہے۔

اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں

گھوم رہا ہے تو وہ اپنے آپ کو اس سے نہیں بچا سکتا کہ ذاتی تعریف اس کو اچھی لگے اور ذاتی تنقید پر وہ بوکھلا اٹھے۔ مگر جو شخص اپنے ذاتی مدار سے بلند ہو جائے وہ کبھی اس بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ اس کو تعریف اور تنقید دونوں ہی بے معنی معلوم ہوں گی۔ کیوں کہ وہ حقائق کو ایسی بلند سطح سے دیکھ رہا ہوگا جہاں روایات اور ماحول کے اثرات اس کے لیے ایک خارجی چیز بن جاتے ہیں بعض اعتبار سے ان میں ملوث ہونے کے با وجود وہ ان کو اس طرح دیکھ سکتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے سے باہر کی ایک چیز کا دور سے مشاہدہ کر رہا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page