اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲
مولاناسیدسلیمان ندوی عرب اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ ھزاروں برس پہلے تک جاتی ھے ہندوستان اور عرب، دنیا کے وہ ملک ہیں جو ایک حیثیت سے پڑوسی کہے جاسکتے ہیں ۔ ان دونوں کے بیچ صرف سمندر حائل ہے ۔ یہ بندر گو یا ایک وسیع قدرتی سڑک ہے جو دونوں ملکوں کو باہم ملاتی ہے ۔ وہ کتبات ہیں جو چٹانوں پر کندہ ہیں ۔ یہ مذہبی کتبے ۲۵۴ ق م میں شہنشاہ اشوک نے کندہ کرائے تھے ۔ یہ کتبات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو داہنی جانب سے بائیں جانب پڑھے جاتے ہیں ان کو ” آریان پالی “ کہا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جو بائیں جانب سے داہنی جانب پڑھے جاتے ہیں ، ان کو مندی پالی کہا جاتا ہے ۔ پروفیسر بولر ( BUHLER ) نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ شاید عراق کے تاجروں نے آٹھویں صدی ق م میں ان حروف کو یہاں روشناس کرایا ہو۔ “ ستیارتھ پرکاش کے مصنف سوامی دیانند جی کے دریا کے کنارے بنے والے ملک فطرتاً تجارتی ہوتے ہیں۔ یہی پہلا رشتہ ہے جس نے ان دونوں بیان کو صحیح مانا جائے تو مہا بھارت کے زمانے میں ہندوستان میں ایسے لوگ تھے جو عربی زبان سے واقف تھے، انھوں قوموں کو باہم آشنا کیا۔ عرب تاجر ہزاروں برس سے ہندوستان کے ساحل تک آتے تھے اور یہاں کی پیداوار کو مصر اور شام کے ذریعہ یورپ تک پہنچاتے تھے اور وہاں کے سامان کو ہندوستان ، جزائر ہند مہا بھارت میں جب کوروؤں نے لاکھ کا گھر بنا کر پانڈوؤں کو اس کے اندر جلا کر پھونک دینا چاہا تو ور دچی نے یدھشٹر کو عربی زبان میں بتایا اور چین اور جاپان تک لے جاتے تھے۔
یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی تمام تحریریں بلکہ تمام آرین تحریریں بائیں طرف سے لکھی جاتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ آریہ ورت کی ابتدائی تحریریں دائیں سے شروع ہوتی ہیں جو سامی تحریروں کی خصوصیت ہے۔ اس کے علاوہ گنتی لکھنے کا طریقہ بھی شاید ابتدائی ہندوستانیوں نے عرب تاجروں سے سیکھا تھا۔ (۸)
انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا میں سنسکرت کے مقالہ کے تحت یہ تحقیق پیش کی ہے کہ : " ہندوستانی تحریر کے قدیم ترین نمونے یہوشٹر جی نے اسی عربی زبان میں ان کو جواب دیا۔ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو مجھے ہندوستان کی طرف سے ربانی خوشبو آتی ہے“۔ چنانچہ شروع زمانہ ہی سے عرب کثرت سے ہندوستان آنا شروع ہو گئے تھے اور محمود کی آمد سے سینکڑوں برس پہلے جگہ جگہ ان کی نو آبادیاں قائم تھیں ۔ عربوں کو اپنے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے ہندوستان کے کسی ساحلی بندرگاہ کی تلاش تھی ۔ چنانچہ اسلام کے ظہور کے بعد ہندوستان پر عربوں کی سب سے پہلی فوج کشی ۱۵ھ ( ۶۴۳ء) میں تھانہ (بمبئی) کی بندرگاہ پر ہوئی ۔ عربوں کا یہ داخلہ بحرِ ہند کے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues