اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
گورنر کے حکم پر ہوا تھا۔
۸۶ھ (۷۰۵ء) میں دمشق کے تخت پر ولید اموی بیٹھا۔ اس کی طرف سے حجاج عراق و ایران و مکران وبلوچستان یعنی حکومت کے مشرقی مقبوضات کا نائب مقرر ہوا تو مہندوستان اور ہندوستانی جزیروں کی طرف توجہ کی۔ اس وقت ہندوستان کے اکثر ساحلوں سے بحری قزاق عرب تاجروں کے جہازوں پر ڈاکہ ڈالا کرتے تھے۔ الیرونی ۴۲۲ھ تک سومنات اور کچھ بحری ڈاکوؤں کی سب سے بڑی جائے پناہ تھی۔
حجاج کے زمانہ میں ایک بار سندھ کی بندرگاہ دیبل کے قریب ڈاکوؤں نے عربوں کے ایک جہاز پر چھاپہ مارا جس میں عورتیں بھی سوار تھیں۔ ان لوگوں نے حجاج سے فریاد کی ۔ حجاج نے سندھ کے راجہ داہر کو لکھا تو اس نے معذرت کی کہ یہ دریائی ڈاکو ہمارے قبضہ میں نہیں۔ اسی دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مکران سے کچھ عرب مجرم اور باغی بھاگ کر سندھ میں پناہ گزین ہوئے اور انھوں نے راجہ داہر کی ماتحتی میں اپنا ایک جتھا بنالیا۔
اسکے بعد حجاج نے اپنے نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کی سرکردگی میں شیراز سے چھ ہزار فوج سندھ روانہ کی اور کچھ فوج مع سامان کے دریائی راستے سے سندھ کی طرف بھیجی اور اس کی کمک کے لیے ایران کے پرانے راستہ سے خشکی کی طرف سے بھی فوجیں بھیجیں۔
سن ۹۳ھ میں محمد بن قاسم سندھ پہنچا اور تین برس کے عرصہ میں ملتان سے لے کر کچھ تک اور مالوہ کی سرحد تک پر قبضہ کر لیا اور پورے سندھ میں انصاف اور امن کی سلطنت قائم کردی۔
۹۴ھ میں ولید نے وفات پائی اور اس کی جگہ تخت پر سلیمان بیٹھا۔ اس کو حجاج اور اس کے خاندان سے ذاتی عداوت تھی۔ اس نے اسی سال حجاج کے دوسرے آدمیوں کے ساتھ محمد بن قاسم کو بھی سندھ سے واپس بلا لیا۔ اور بالآخر ذاتی انتقام کے نشے میں اس کو قتل کرا دیا۔
اموی خلیفہ کے ہاتھوں یہ بیدردانہ قتل اس شخص کا تھا جس کے متعلق تاریخ بتاتی ہے کہ ” جب محمد بن قاسم سندھ سے واپس جانے لگا تو سندھ کی رعایا نے اپنے نیک دل اور انصاف پسند فاتح کی جدائی میں آنسو بہائے اور اس کی یادگار میں اس کا بت بنا کر کھڑا کیا ۔ ( تاریخ فتوح البلدان بلاذری، باب فتح سندھ)
اس کے بعد خلافت دمشق سے مختلف گورنر یہاں مقرر ہو کر آتے رہے اور انھوں نے کچھ کارگزاریاں بھی دکھائیں۔ ۱۳۳ھ (۷۵۱ء) میں عربی حکومت کے دفتر کا ورق الٹ گیا۔ امویوں کی جگہ عباسی آئے اور حکومت کا مرکز دمشق سے ہٹ کر بغداد چلا گیا۔ بغداد کی سلطنت معتصم بالله عباسی (م، ۲۲۷ھ) تک مضبوط رہی۔ اس کے بعد وہ روز بروز ایسی کمزور ہوتی گئی کہ اس کا تعلق سندھ اور مہندوستان سے ٹوٹ گیا۔ کچھ دن تک عرب امرار یہاں خود مختار بنے رہے۔ بالآخر ہندو راجاؤں نے پھر قبضہ کر لیا۔ اور بعد کو صرف دو مشہور عرب ریاستیں یہاں قائم رہ گئیں جن میں ایک ملتان میں تھی اور دوسری سندھ کے عربی شہر منصورہ میں۔
ہندوستان میں جو ترک و افغان مغل فاتح آئے وہ مسلمان تھے، اس لیے ان کی تمام کارروائیوں کا ذمہ دار اسلام سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اس حقیقت سے ہم سب کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues