اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۸۸
واقف ہونا چاہئے تھا کہ ترک فاتح جو ہندوستان آئے۔ خاص خاص افسروں یا عہدیداروں کو چھوڑ کر قوم کی مجموعی حیثیت سے وہ اسلام کے نمائندے نہ تھے۔ اور نہ ان کے اصول سلطنت کو اسلام کی طرز حکومت اور اصول فرمانروائی سے کوئی مناسبت تھی۔ ان کے ترک افسر زیادہ تر نو مسلم غلام تھے جن کو اسلام کے صلح و جنگ کے قوانین سے شاید واقفیت بھی نہ تھی۔
غزنویہ سلطنت جس ملک میں اگر قائم ہوئی، وہ اسلامی حدود سلطنت کا سب سے آخری گوشہ تھا۔ وہاں اسلام نے ابھی پورا قدم بھی نہیں جمایا تھا۔ سلطان محمود کی فوج میں جو سپاہی بھرتی ہو کر آئے، وہ غربی، خلجی، ترکوں اور افغانوں کے مختلف قبائل تھے۔ ہندو بھی اس کی فوج میں داخل تھے۔ ترک قبائل کا یہ حال تھا کہ وہ بحیثیت مسلمان نہ تھے ۔ وہ غلاموں کی حیثیت سے ہزارہا کی تعداد میں فروخت ہوتے تھے اور سلاطین وامراء ان کو خرید کر اور مسلمان بنا کر فوج میں بھرتی کرتے تھے، یا وہ خود لوٹ مار کے شوق میں وسط ایشیا سے نکل کر اسلامی ممالک میں آتے تھے اور مسلمان ہو کر مختلف بادشاہوں اور امیروں کی فوج میں بھرتی ہوتے تھے اور آگے چل کر بڑے افسر ہو جاتے تھے، یہاں تک کہ بادشاہ بن جاتے۔
التپنگین اور سبکتگین جو غزنوی سلطنت کے بانی تھے اسی قسم کے ترک غلام تھے۔ سلطان غوری کے جانشین التمش وغیرہ بھی ایسے ہی تھے۔ سلجوقی ترک جو چند برس کے بعد عظیم الشان سلجوقی سلطنت کے بانی ہوئے، اسی زمانے میں اسلامی حد میں آ کر مسلمان ہوئے۔ یہی حال سلطان محمود کی فوج کا بھی تھا۔ ترکستان اور ماوراء النہر کے ترک رضا کار اس کی فوج میں داخل ہو گئے تھے جو زیادہ تر اسی زمانے میں مسلمان ہوئے تھے۔ ۱۸۸ مغل ابھی تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے۔ وہ ساتویں صدی ہجری تک کافر سمجھے جاتے تھے۔ علاؤ الدین خلجی رم ۷۱۷ ھ تک فوج میں مغل مسلمان کہہ کے نوکر رکھے جاتے تھے۔
افغانوں کے بڑے بڑے شہروں میں گو اسلام تھا مگر خود افغان اب تک مسلمان نہ تھے۔ کافر ہی سمجھے جاتے تھے۔ گو خاص کابل کے بادشاہ نے تیسری صدی کے شروع میں ، یعنی غزنویوں سے سو برس پہلے اسلام کا اظہار کیا تھا، لیکن افغانوں کے اکثر قبائل محمود غزنوی ہی کے زمانے میں مسلمان ہونے شروع ہوئے تھے۔
ان کے علاوہ غوری قبائل چوتھی صدی کے وسط تک یعنی غزنویوں کی پیدائش کے بعد تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ پھر سلطان محمود سے پہلے اس وقت تک ان اطراف میں نہ اسلامی درس گاہیں تھیں نہ اسلامی تعلیمات کا رواج ہوا تھا اور نہ مسلمان علماء پھیلے تھے۔ ان اسباب سے ان قوموں کے اس وقت کے طور طریق اصولِ جنگ اور طرزِ عمل کو اسلام نہیں کہا جا سکتا۔ ۱۹۰ برخلاف اس کے عرب فاتح جو ایک صدی کے اندر ایک طرف شام کی سرحد عبور کر کے مصر اور شمالی افریقہ کے راستے سے اسپین تک پہنچ چکے تھے اور دوسری طرف عراق کے راستے سے خراسان تک اور ایران و ترکستان کو طے کر کے ایک سمت میں کاشغر اور دوسری سمت میں سندھ تک فتح کر چکے تھے۔ وہ لوگ تھے جن میں اسلام کی تعلیمات زندہ تھیں ، اسلام کا قانونِ جنگ عمل میں تھا۔ کہیں کہیں افسروں میں بعض ایسے بزرگوار بھی تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام کی صحبت اٹھائی تھی۔ اور ایسے تو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues