اگر آدمی اپنی ذات کے مدار میں
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۵
بکثرت تھے جنہوں نے صحابہ کا فیض پایا تھا۔ اس لئے ان کے طور طریق، اصول حکومت اور طرزِ سلطنت خیبر سے آنے والی قوموں سے بالکل مختلف تھے۔ ۱۹ پہلی صدی ہجری رساتویں صدی عیسوی کے خاتمہ پر سندھ کی فتح کے چند سال بعد جب بنو امیہ کے دیندار اور برگزیدہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے سندھ کے لوگوں کو اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تو بہت سے راجاوں نے اسلام قبول کرلیا۔ (فتوح البلدان بلاذری، فتح سندھ) ۲۲۸ مختلف تجارتی، معاشرتی اور سیاسی تعلقات کا یہ نتیجہ ہوا کہ سندھ، گجرات، کارومنڈل، ملہار، مالدیپ، سراندیپ اور جاوا میں اسلام نے اپنے قدم آہستہ آہستہ بڑھانے شروع کئے ۔ ان جزیروں میں ایک طرف ہندوؤں اور دوسری طرف چینیوں کے اثر سے بدھ مت پھیلا ہوا تھا۔ مگر صدی بصدی کے جغرافیوں اور سفر ناموں کی کتابوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی بھڑائی کے بغیر لوچے امن چین کے ساتھ اسلام کے اثرات یہاں بڑھتے جاتے۔ سندھ کا علاقہ خلیفہ المامون (۲۱۸ ھ) تک بغداد کے مرکز سے وابستہ رہا، بلکہ اسی کے آخر زمانہ میں عرب امراء خودمختاری کے خواب دیکھنے لگے۔ چنانچہ بنی سامہ کے غلام فضل بن ماہان نے سندان نام کے ایک شہر کو فتح کر کے براہ راست خلیفہ المامون سے اپنی امارت کی سند حاصل کرلی اور وہاں ایک جامع مسجد بنوائی جس میں نماز جمعہ ادا ہوتی تھی اور خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔
اس کے بعد اس کا بھائی محمد بن فضل بن ماہان حاکم ہوا اور یہ زمانہ معتصم باللہ (۲۲۷ ھ) کا تھا۔ اس نے ستر جہازوں کے بیڑے کے ساتھ میڑوں پر حملہ کیا۔ اس کی غیر حاضری میں اس کے بھائی ماہان نے ریاست پر قبضہ کر لیا اور غالب اسی خانہ جنگی میں ریاست مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی۔ ( بلاذری، صفحہ ۴۲۴ )
معتصم باللہ کے زمانہ میں قندابیل میں محمد بن خلیل نے خود مختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ مگر معتصم کے عہدہ دار عمران برمکی والیٔ سندھ نے وہاں کے سرداروں کو گرفتار کر کے تصدار قزدار بھیج دیا۔
عمران برمکی ہی کے زمانہ میں عربوں کے دو مشہور قبیلوں یمنی (قحطانی) اور حجازی (نزاری) میں بعینہ وہی خانہ جنگی شروع ہوئی جس خانہ جنگی نے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ عمران نے یمنیونی کی طرف داری کی۔ اس وقت حجازیوں کا ایک سرگروہ ایک قریشی سردار عمر بن عبدالعزیز ہباری تھا۔ اس نے موقع پا کر عمران کو قتل کر دیا ( بلاذری، ۴۲۶ ) عمر بن عبدالعزیز ہباری کی امارت کے بعد بھی عباسی تعلق قائم رہا۔ چنانچہ معتمد کے زمانہ (۲۷۹ - ۲۵۶ ھ) میں بغداد کے انتظامات ملکی میں سندھ کا نام بھی نظر آتا ہے۔ اس کے بعد سندھ کا یہ برائے نام رشتہ بھی بغداد سے کٹ گیا۔ بلاذری جو ۲۷۹ھ میں مرا ہے، وہ لکھتا ہے کہ "بنو کنده کا آزاد کردہ غلام ابو الصمہ جو تیسری صدی کے شروع کے ایک عباسی والی عمر بن حفص بن ہزار مرد کے ساتھ سندھ گیا تھا۔ اس کا بیٹا صمد آج کل سندھ میں زبردستی خود مختار بن بیٹھا ہے۔ " (بلاذری، ۴۲۵)
تاہم مسعودی ۳۰۳ھ میں ہندوستان آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں عرب امراء حکمراں ہیں جواب بھی خلیفہ بغداد کا خطبہ پڑھتے ہیں۔ ابن موقل ، ۳۷۴ ھ میں اور مقدسی ۳۸۵ھ ھ میں یہاں آیا تو انھوں نے بھی یہی پایا کہ خطبہ خلیفہ کے نام کا پڑھا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues