زبان کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۶
زبان کا مسئلہ
ایک ہندوستانی عالم ایک عرب ملک گئے۔ وہاں ایک عرب نوجوان ان سے ملنے کے لئے آیا۔ گفتگو کے دوران اس نے پوچھا : متی القدوم (کب تشریف لائے) ہندوستانی عالم نے جواب دینا چاہا تو ان کی زبان سے نکل گیا: غداً۔ عربی میں آئندہ کل کے لئے "غد" اور پچھلے کل کے لئے "امس"، کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مذکورہ بزرگ عربی کے اچھے عالم ہیں۔ مگر عربی بولنے کی مشق نہ ہونے کی وجہ سے وہ غد (آراگلے دن) کہہ گئے۔ حالاں کہ موقع کے اعتبار سے انھیں بالامس (پچھلے دن) کہنا چاہئے تھا۔ اسی طرح ایک اور ہندوستانی عالم نے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان انھوں نے قائم کیا: الاقدار الاسلامیة۔ یہاں اقدار کو انھوں نے انگریزی لفظ ”ویلو ز“ کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ حالانکہ یہ اس لفظ کا اردو استعمال ہے۔ عربی میں ویلو ز کے لئے قیمۃ (جمع قیم) بولا جاتا ہے۔ یہ اتفاقی غلطی کی مثال ہے جس سے کوشش کرکے آدمی بچ سکتا ہے۔ تاہم ایک غیر اہل زبان لغت اور نحو کی خواہ کتنی ہی مہارت حاصل کرلے، وہ اہل زبان کی سی زبان لکھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ الاماشاء اللہ۔ مولانا شبلی نعمانی عربی زبان کے ادیب تھے۔ وہ مصر و شام کے سفر پر گئے ۔ وہاں ایک بار وہ اپنے ساربان سے عربی میں گفتگو کر رہے تھے۔ درمیان میں اس نے کہا : یا شبلی انت نحوی (اے شبلی آپ تو قواعد داں ہیں)۔ مولانا شبلی سمجھے کہ ساربان ان کی عربی دانی کی تعریف کر رہا ہے۔ بعد کو معلوم ہوا کہ یہ طنز تھا۔ مولانا شبلی نحو و صرف کے قواعد کی انتہائی پابندی کرتے ہوئے بول رہے تھے۔ مگر عرب ساربان کو ان کی یہ زبان مصنوعی معلوم ہو رہی تھی۔ ہر زبان کے کچھ اپنے لطیف آداب ہوتے ہیں، اہل زبان چوں کہ بچپن سے اسی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں، اس لئے وہ ذوقی طور پر اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ ان کے لکھنے اور بولنے میں خود بخود ان آداب کی رعایت شامل ہوتی رہتی ہے۔ مگر غیر اہل زبان عام طور پر اس کی رعایت نہیں کر پاتے۔ مخزومی پاشا، سید جمال الدین افغانی کے ایک رفیق ہیں۔ انھوں نے موصوف کے بارہ میں عربی میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام رکھا : جمال الدين افغانی فی البلاط السلطانی (جمال الدین افغانی شاہی مجلس میں)، سید جمال الدین افغانی نے سنا تو کہا:
ان هذا العنوان ليس لهذا المقال بتطبيق، قل خاطرات ولا تزد یہ نام اس کتاب کے موافق نہیں۔ اس کا نام صرف " خاطرات " رکھو اور اس پر کچھ اضافہ مت کرو۔ مخزومی پاشا لکھتے ہیں کہ بعد کو میں نے ایک عرب ادیب سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا، اگر کتاب کا یہ نام رکھا گیا تو اہل لغت اس پر تنقید کریں گے۔ کیوں کہ آپ " خاطرات جمال الدین " کا لفظ " افكار جمال الدين " کے معنی میں لے رہے ہیں۔ مگر اہل زبان اس مفہوم کے لئے " خواطر " کا لفظ بولتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے اگرچہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں، مگر استعمال کے اعتبار سے خاطرات میں وساوس کا مفہوم آ جاتا ہے جمال الدین افغانی نے اپنی آزاد طبعی کی بنا پر اس کو تسلیم نہیں کیا اور مخزومی پاشا سے کہا قل خاطرات ولا تبال بمن تفسد لسانهم تم کتاب کا نام خاطرات ہی رکھو اور ان کی پروا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues