Al-Risala · March 1977 · page 27

زبان کا مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷

مت کرو جنہوں نے اپنی زبان کو بگاڑ رکھا ہے۔ اہل زبان اور غیر اہل زبان کا یہ فرق اتناھتی ہے کہ تاریخ میں مشکل ہی کچھ مثالیں اس کے خلاف تلاش کی جاسکتی ہیں۔ مرزا غالب (۱۸۶۹ - ۱۷۹۷) کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا۔ انھوں نے اپنے فارسی دیوان کے بارے میں کہا :

فارسی میں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ بگزر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است مگر غالب کو شاعری کی دنیا میں جو مقام ملا وہ ان کے اردو کلام کی بنا پر ملا، فارسی کے کلام کی بنا پر نہیں۔ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴ - ۱۸۵۷) نے جب پہلی بار اردو میں سیرت النعمان لکھی تو اس کے آغاز میں ایک فارسی معذرت شامل کی، جس میں انھوں نے کہا :

گرچہ مرا شیوہ فن این نبود حرف بہ اردو زدن آئیں نبود مگر شبلی کو ان کی جن کتابوں نے شبلی بنایا وہ اردو کتابیں ہی تھیں نہ کہ فارسی اور عربی کتابیں ۔ اسی طرح مولانا حمید الدین فراہی (۱۹۳۰ - ۱۸۶۳ء) نے تفسیر قرآن کو اپنا موضوع بنایا اور اس پر بہت سی قیمتی تحریریں لکھیں یہ تمام تحریریں عربی زبان میں تھیں۔ مگر ان کی عربی تحریریں نہ ہندوستان میں مقبول ہوسکیں اور نہ عالم عرب میں۔ جب ان کا ترجمہ اردو میں شائع کیا گیا ، اس وقت لوگوں کو ان کی اہمیت کا احساس ہوا۔

یہ بات اردو یا عربی زبان کے ساتھ مخصوص نہیں، ہر زبان کا یہی حال ہے۔ ہندوستان میں انگریزی کے رواج کے بعد بے شمار لوگوں نے انگریزی کو اپنی فلمی زبان بنایا ۔ مگر مشکل ہی کچھ ایسے لوگوں کا نام لیا جاسکتا ہے جنھوں نے انگریزی ادب کی تاریخ میں کوئی مقام حاصل کیا ہو۔ جو اہر لال نہرو اور مہاتما گاندھی وغیرہ کی انگریزی تحریریں بلاشبہ یورپ اور امریکہ میں کافی پڑھی گئیں، مگر ان کو جو کچھ بھی مقبولیت حاصل ہوئی، ان کی تاریخی اہمیت کی بنا پر ہوئی، کیونکہ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ جاننے کے سے یہ کتابیں ماخذ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ نراد چودھری جو انگریزی اور بنگالی دونوں کے اچھے ادیب ہیں، انھوں نے ٹیگور کے بارے میں لکھا ہے کہ ۱۹۱۳ میں نوبل انعام ملنا ان کے لئے ایک حادثہ تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد ٹیگور نے سمجھ لیا کہ ایشیا سے زیادہ یورپ ان کے فن کا قدردان ہے۔ انھوں نے انگریزی میں لکھنا شروع کر دیا۔ مگر انگریزی ان کے لئے بہر حال ایک غیر ملکی زبان تھی۔ اس میں وہ دسی گہرائی اور کشش پیدا نہ کر سکے جو اپنی مادری زبان بنگالی میں لکھنے کی صورت میں ہو سکتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آروندو گھوش نے بعد کی عمر میں بنگلہ زبان سیکھی تو اس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ گیتا ن جلی کو اصل بنگالی زبان میں پڑھ سکیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ کوئی ادیب یا مصنف خواہ کتنی ہی زبانیں جانتا ہو مگر اپنی مادری زبان میں وہ جس لطافت اور حسن کے ساتھ اپنے خیالات کو پیش کر سکتا ہے، کسی دوسری زبان میں اس کی امید نہیں کی جاسکتی۔ بعض شاذ مثالیں ہو سکتی ہیں۔ مگر شاذ کالعدم۔ ناکامی کی وجہ شریف کامل ایک اخوانی رہنما ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمین کی ناکامی کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیاست میں قبل از وقت داخل ہو گئی۔ قد دخلنا فی السیاسة قبل وقتها

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page