زبان کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۸
رکوع وجود کا منظر اتنا پر کشش ہوتا ہے کہ کوئی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا عیسائیت کو میں نے چھوڑا ہے اور اسلام کو اختیار کیا ہے۔ مجھے یہ بات تسلیم ہے کہ مسیحیت میں بھی حق وصداقت اور مفید اصول موجود ہیں اور اگر اس مذہب سے وہ تمام بدعتیں دور کردی جائیں جو پادریوں نے پیدا کردی ہیں تو یہ مذہب بھی انسان کے لیے ایک مفید مذہب بن سکتا ہے۔ لیکن ان بدعتوں نے اس کی اصل صورت کو بگاڑ دیا ہے اور بالکل بے جان کر ڈالا ہے۔ اس کے برخلاف اسلام اسی ابتدائی شکل میں میں ہے جس میں وہ جلوہ گر ہوا تھا اور چونکہ میں ایک ایسے مذہب کا متلاشی تھا جو آمیزش سے پاک ہو اس لیے میں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ کسی عیسائی کلیسا میں چلے جایئے وہاں نقش ونگار اور مورتیوں کے سوا آپ کو کچھ نہیں ملے گا اس کے علاوہ وہ پادریوں کے زرق برق لباس پر نظر ڈالئے اور پھر ان کے طریقوں راہبوں اور زنوں کے ہجوم کو دیکھئے توان کا روحانیت سے دور کا بھی تعلق دکھائی نہیں دنیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم کسی عبادت گاہ میں نہیں ہیں بلکہ ایسے تہ خانہ میں ہیں جو صرف بتوں کی پوجا کے لئے بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد مسجد پر نظر ڈالئیے وہاں آپ کو نہ کوئی مورت دکھائی دے گی اور نہ تصویر۔ پھر نمازیوں کی صفوں پر نظر ڈالئیے ہزاروں چھوٹے بڑے انسان شانہ ملائے کھڑے نظر آئیں گے۔ امام کو دیکھئے تو اس کا لباس بھی نہایت سادہ ہوگا سچ تو یہ ہے کہ نماز میں رکوع و سجود کا منظر اس قدر جاذب قلب ہوتا ہے کہ کوئی انسان بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
مسجد کی پوری فضا اور اس کی تمام چیزیں روحانیت کی جانب انسان کی رہنمائی کرتی ہیں نہ یہاں تصنع ہے نہ بناوٹ کی قسم کی کوئی چیز۔ اس کے برخلاف کلیسا کی تمام چیزوں میں مادی دنیا کا مظاہرہ بہت زیادہ ہر ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ پروٹسٹنٹ مذہب توان عیبوب سے پاک ہے اس نے توان گر جوں سے بت اور تصویریں نکال پھینکی ہیں تم نے اسلام کے بجائے اسے قبول کیوں نہیں کیا۔ بلا شبہ پروٹسٹنٹ مذہب حقیقی مسیحیت سے قریب ضرور ہے، با وجود اس اعتراف کے کہ مسیح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر تھے، میں ہرگز ان کی الوہیت کا قائل نہیں جو میری ہی طرح گوشت پوست رکھتے تھے میرا یہ عقیدہ کوئی نیا نہیں، بلکہ ابتداہی سے میں اسکا اظہار کرتا رہا ہوں۔ اسلام نہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام ہی کا پورا احترام سکھاتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مذہب اور بانیان مذاہب کے احترام کی دعوت دیتا ہے۔ میں عرصہ دراز سے اسلام کی طرف رجوع تھا لیکن میرا ایمان اتنا قوی نہیں تھا کہ میں بے دھڑک اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر سکتا۔
یہ تذبذب کسی انسان یا سوسائٹی کے خوف کی بنا پر نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں پوری طرح اسلام کی خوبیوں اور خصوصیتوں سے واقف نہیں تھا۔ میں اسلام کے بارے میں علمائے اسلام کی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور میری آنکھیں کھلتی گئیں اور مجھے صاف طور پر اس دین مبین کی خوبیاں اور اس کے پیغمبر محمد کا بنی نوع انسان پر احسان معلوم ہو گیا اور آخر میں نے اس
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues