Al-Risala · March 1977 · page 29

زبان کا مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۹

دین فطرت کو اپنا مذہب بنالیا۔ اسلام میں توحید پرستی جیسی میں نے پائی ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہے اور اسلام کی اسی توحید پرستی نے مجھے سب سے پہلے اس مذہب کی جانب مائل کیا۔ اسلام میں جو سب سے بڑی خوبی میں نے پائی ہے وہ یہ ہے کہ وہ صرف روحانی ترقی ہی کا حامل نہیں ہے بلکہ وہ دنیا کی ترقی میں بھی بہت بڑا مدد و معاون ہے وہ انسان کو گوشہ نشینی اور راہبانہ زندگی گزارنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ بلکہ وہ کارگہ حیات میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ دینی معاملات میں ہی انسان کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ دنیا کے ہر معاملہ میں انسان کو راستہ بتاتا ہے اور قدم قدم پر بنی نوع انسان کو روشنی دکھاتا ہے اسلام نے دنیا کو عاقبت کی کھیتی قرار دیا ہے اور اسے حق دیا ہے کہ وہ دینی فرائض سے بھی غافل نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ سائنسی دور میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو ترقی یافتہ دنیا کا ساتھ دے سکتا ہے۔ اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تنگ نظری اور تعصب کا شدید مخالف ہے۔ وہ صرف اپنے ہم مذہبوں ہی کے ساتھ مروت یا محبت کی ہدایت نہیں کرتا بلکہ وہ کل بنی نوع انسان کے ساتھ خواہ وہ کسی مذہب و ملت سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہوں ہمدردی و مساوات کا حکم دیتا ہے وہ تفرقہ کا نہیں اتحادِ انسانی کا قائل ہے سچ تو یہ ہے کہ اس مذہب نے پہلی مرتبہ انسان کو انسانیت کا سبق پڑھایا۔

میں گذشتہ پانچ سال سے مذہب اسلام کا پیرو ہوں جس چیز نے میرے ایمان کو تقویت دی وہ اسلام کے بلند اور پاک اصول ہیں اس کی عالمگیر امریکی نو مسلم پروفیسر اے. ایچ. ہیویٹ نے قبول اسلام کے بعد اپنے جو تاثرات شائع کئے ہیں، ان کو یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام کے مطالعہ کے بعد میں نے اس دین کو اپنے دل کی آواز پایا اور اس دین فطرت کو قبول کر لیا۔ یہی واقعہ دوسرے بیشمار لوگوں کے ساتھ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ان کو اسلام کے پیغام سے واقف کرایا جائے۔

اخوت ہے۔ اس کی بے نظیر مساوات ہے اور اس کا علم وعربان ہے جس نے میرے دل و دماغ میں ایک نئی روشنی پیدا کر دی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو سراپا علم وعمل ہے بلکہ میں تو کہوں گا کہ اسلام ایک ایجابی دین ہے کوئی اگر صحیح معنوں میں عیسائی بننا چاہے تو اسے دنیا سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کرنی ہوگی لیکن اسلام میں رہ کر دنیا کی تمام مسرتوں اور نعمتوں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ نہ ہمیں عبادت کا گوشہ تلاش کرنا ہوگا اور نہ ہی ویرانوں میں زندگی بسر کرنے کی مجبوری ہوگی۔ اگر انسان کو دنیا میں اسی لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ گوشہ نشینی میں اپنی زندگی برباد کرلے تو ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ یہ صرف اسلام نے بتایا ہے کہ انسان اس کارگاه حیات میں رہ کر قدرت کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیگی مگر ساتھ ہی اپنے پروردگار اور اس کی مخلوق کو نہ بھولے۔ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے میں انتہائی قلبی سکون محسوس کر رہا ہوں۔ میری دنیا بھی درست ہو گئی ہے اور عاقبت بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page