Al-Risala · March 1977 · page 30

زبان کا مسئلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۰

تہذیب کا ارتقائی عمل انسانی شعور کو ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جارہا ہے سماجی حالات سے سخت مایوس ہیں۔ اعلیٰ سماج بنانے کے تصورات ختم ہوگئے ہیں۔ زمین پر بہت بہت بنانے کا خیال اب اپنی ذات کے اندر بہت ڈھونڈنے کی طرف مائل ہو آج کی برباد دنیا میں مفکرین کی ایک بڑی تعداد نے آئیڈیلزم کی آخری پناہ گاہ کے طور پر اپنی امیدوں اور اپنے عقیدہ کو روح کے اوپر مرکوز کر دیا ہے ۔ مادیات کے بجائے روحانیات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے بعض لوگوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ ارتقائی عمل تہذیب کو شعور کے ایک اعلیٰ مرحلہ کی طرف لے جارہا ہے جو مشینئی ترقیاں ان کو مطمئن نہ کر سکیں ہم ۱۸۱ء میں ہر امریکہ کی جیب میں مستقبل کا ایک خوبصورت خاکہ موجود ہوتا تھا بالکل ویسے ہی جیسے ہر جیب میں رومال موجود ہوتا ہے۔ مگر آج امریکیوں کی جیسی اس قسم کی کسی پر شوق چیز سے خالی ہیں۔ لوگ جبہ قدرتی توازن ٹوٹ جائے طبیعیات اور حیاتیات کی دنیا میں جو قوانین کام کر رہے ہیں۔ ان کا ایک خاص عمل یہ ہے کہ یہ قوانین مختلف اشیاء کے درمیان ایک فطری توازن (NATURAL BALANCE) کو برقرار رکھتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو انسانی زندگی تباہ ہو جائے۔ جدید دریافتوں سے معلوم ہوا ہے کہ فطرت کا یہ توازن انتہائی صحیح اندازوں کے مطابق کیا گیا ہے۔ اسکے اندر انسان کی کوئی مداخلت شدید خطرہ پیدا کرنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر جدید تمدن کا وہ خطرناک مسئلہ جس کو صنعتی کثافت (INDUSTRIAL POLLUTION) کہتے ہیں، وہ کیا چیز ہے ۔ وہ قدرت کے نظام میں انسانی مداخلت سے پیدا شدہ ایک صورتحال ہے۔ کاربن گیس اور دوسری کثافتیں جو عام حالات میں پیدا ہوتی ہیں، قدرت ان کے اعادہ دوری (RECYCLE) کے ذریعہ اپنے توازن کو برقرار رکھتی ہے مگر صنعتی دور نے اپنی پیدا کردہ کثافتوں سے اس نظام میں جو خلت کی، اس نے فطرت کے توازن کو بگڑا دیا۔

توازن فطرت کے ٹوٹنے کا یہی معاملہ سماجی قوانین میں بھی کام کرتا ہے۔ خدا نے جسطرح طبیعی اور حیاتیاتی دنیا میں توازن کا قانون جاری کر رکھا ہے، اسی طرح اس نے سماجی زندگی آمیں توازن کو برقرار رکھنے کیلیے بھی قوانین مقرر کئے ہیں۔ انھیں قوانین کا نام آسمانی شریعت ہے۔ انسان کی بہتری یہ ہے کہ وہ اس قانون کو استعمال کر کے سماجی زندگی کے توازن کو برقرار رکھے۔ اگر انکو نظر انداز کر کے بطور خود قانون وضع کریگا تو وہ سماجی زندگی کے مطلوبہ توازن کو توڑ دے گا اور زندگی تباہ ہو جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page