زبان کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
بالا آخر انسان کو بلند ترین حقیقت سے ملا دے گی یعنی خدا سے ۔
صنعتی دور کی ترقی کے بعد امریکیوں نے سمجھا تھا کہ وہ ٹیکنالوجی میں نجات حاصل کر لیں گے۔ مصنفین نے بڑے شاندار قسم کے خاکے پیش کئے مگر ٹیکنالوجی انسانی مسرت کے حصول میں نا کام ثابت ہوئی۔ اس کے ذرائع نہایت آسانی سے انسانی ترقی کے بجائے انسانی بربادی میں استعمال ہونے لگے۔ ٹائم (نیویارک)، ۱۸ جنوری ۱۹۷۱ء اوپر جو عبارت نقل کی گئی، وہ امریکی میگزین کے ایک خصوصی مضمون کا ترجمہ ہے جس کا عنوان ہے۔ A VOYAGE TO UTOPIA اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مادی ترقیوں کی حقیقت کیا ہے۔ آج کی دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک مادی ترقی کی تمام قسموں کا مالک بننے کے بعد بالآخر جس احساس سے دوچار ہے وہ یہ کہ مادی ترقی انسانی ترقی کا اصل زرینہ نہیں۔ حقیقی انسانی ترقی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہے۔
امریکہ اس دوسری چیز کو نفسیات اور روحانیت کی دنیا میں تلاش کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس دنیا میں جس کی نشاندہی مذہب نے کی تھی مگر مادیات کے ابتدائی جنون میں لوگوں نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا۔
یہ بہترین وقت ہے کہ حاملین اسلام اٹھیں اور جدید دنیا کے سامنے خدا کے دین کی دعوت پہنچائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ نے صدیوں کے انقلابات کے بعد دین خدا کی حامل قوموں کے لیے میدان خالی کر دیا ہے۔ وہ آج کی دنیا کی ذہنی قیادت حاصل کر سکتی ہیں مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اس سنہرے امکان کے عین کنارے سے وہ اس طرح غافل پڑی ہوئی ہیں۔ جیسے انھیں اس کی خبر بھی نہیں۔ کیسے کیسے مسائل!
مسجد میں کسی کو چھینک آ جائے تو دوسرا شخص جو حالت نماز میں ہے، اگر اس کی زبان سے یرحمک اللہ (خدا تجھ پر رحم کرے) نکل جائے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ البتہ اگر وہ یرحمہ اللہ (خدا اس پر رحم کرے) کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔ یہ شافعیہ کا مسلک ہے۔
حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ مسجد میں کسی کو چھینک آ کے تو مصلی خواہ یرحمک اللہ کہے یا یرحمہ اللہ، ہر حال میں اس کی نماز باطل ہو جائے گی البتہ اگر خود مصلی کو چھینک آئے اور وہ اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے یعنی اللہ مجھ پر اللہ رحم کرے) یا یرحمک اللہ کہے تو نماز باطل نہ ہوگی۔
الفقہ علی المذاہب الاربعہ از عبد الرحمن الجزبیری حصہ اول ، صفحه ۳۰۲
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues