Al-Risala · March 1977 · page 35

مریخ پر زندگی کی تلاش

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

مریخ پر زندگی کی تلاش

"بے شمار دنیاؤں کی اس وسیع کائنات میں زمین ایک انوکھا استثناء ہے"۔

خلائی جموں کی اس دریافت نے حیرت انگیز طور پر خصوصی تخلیق کے نظریہ کو صحیح ثابت کر دیا ہے جس کو ارتقا پسندوں نے سو سال پہلے رد کر دیا تھا کہتے ہیں، نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے۔ مریخ کا فاصلہ زمین سے ۲۱ کروڑ ۵۰ لاکھ میل ہے اور اس کا قطر زمین کے مقابلہ میں تقریباً نصف ہے۔ یہ "سرخ ستارہ" قدیم ترین زمانہ سے انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ قدیم علم نجوم میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ موجودہ زمانہ میں مریخ سے دل چسپی کی خاص وجہ یہ ہوئی کہ سائنس دانوں کا خیال تھا کہ مریخ کے طبعی حالات ہماری زمین سے بہت زیادہ مشابہ ہیں اور وہاں زندگی کی کچھ اقسام ضرور پائی جانی چاہییں۔ ابتدائی مشاہدہ میں مریخ پر کچھ ایسی چیزیں نظر اور پھر مختلف مادی حالات کے تحت ارتقا کرتا ہوا موجود انواع حیات تک پہنچا۔ اسی کے ساتھ ان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات کا مادہ ایک ہے۔ جراثیم ہمارے اندر ہے، ذرے سے لے کر ستاروں تک تمام کائنات اسی سے بنی ہوئی ہے۔ اسی لئے امریکی فلکیات داں ڈاکٹر ساگن (DR. CARL SAGAN) نے انسان کو کوکی مخلوق (STARFOLK) کہا ہے۔ اب اگر زندگی ارتقا کے طبیعی قانون کے تحت بنی ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ محض ایک زمینی استثناء ہو۔ اس توجیہہ کا لازمی تقاضا ہے کہ زندگی ایک کائناتی مظہر ہو۔ وہ کائنات کے تمام حصوں میں، اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے، ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی نظر آئے۔ اتنی بڑی کائنات میں صرف ایک چھوٹے سے سیارہ پر زندگی ہو تو وہ ایک شعوری اور ارادی تخلیق معلوم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس زندگی اگر ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہو، تو جدید ذہن کے نزدیک وہ ارتقا کی تصدیق کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ ۔ مریخ پر زندگی کی تلاش کا کم از کم فلسفیانہ محرک یہی ہے۔ ۱۸۷۷ء میں اٹلی کے ایک فلکیات داں شٹیا پر یلی (GIOVANNI SCHIAPARELLI) نے دوربین سے مریخ کا مشاہدہ کیا۔ اس کے مشاہدہ میں بعض ایسی آئین جن کو برف کا تودہ سمجھا گیا ۔ چنانچہ کہا گیا کہ برفانی تو دوں کا مطلب ہے پانی اور فضا، فضا کا مطلب ہے آکسیجن اور دونوں کا مطلب ہے زندگی ۔

اس نظر یہ کی بنیاد کسی حقیقی دریافت سے زیادہ قیاس پر رکھی گئی اور زندگی کو ایک بار تو ارمواقی چیزیں آئیں جن کو اس نے اپنی زبان میں کینائی CANALI سے تعبیر کیا۔ اس اطالوی لفظ کا انگریزی مترادف چینل (CHANNELS) ہے ۔ مگر انگریزی میں جیسا یہ خبر چھپی تو اس کا ترجمہ چینیل کے بجائے کینال (CANALS) کر دیا گیا۔ جتنا رقبہ ریڈارنگاہ کو کہتے ہیں اگر چہ کہ کنال کا لفظ انسان نیا حاصل پر مبنی، جدید شمارہ مادی نظریات کے دائرہ فرض کرتے ہیں۔ یعنی مادی اشیاء کے باہمی تعامل سے مخصوص حالات میں زندگی کا ایک ابتدائی شرارہ نکلا میں مددی کَرّہ گاہ ہوتے ہیں ۔ جب کہ یہاں فاصلہ اتنا کی بنائی ہوئی نہر کے لئے بولا جاتا ہے ۔ ترجمہ کی یہ غلطی اتنی عام ہوئی کہ لوگوں نے سمجھ لیا کہ مریخ پر واقعی انسان جیسی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page