نمائندے یہ تھے :-
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷
پہلے انھوں نے نبوت کی مخالفت کر کے بنو ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکہ پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ابو سفیان ان کے لڑکے معاویہ اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو خلافت کے لئے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کر سکے۔ حضرت عثمان جو خاندان امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علیؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو بنی امیہ کے لئے یہ بالکل ناقابل برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلہ نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا ۔ اس جذباتی نعرہ پر انھوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا۔ اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ خلیفہ چہارم کو منصب خلافت سے ہٹا دیں۔ تاہم معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکت اسلامی کے نصف سے زیادہ حصہ کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑکائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علیؓ کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین جس میں ۹۰ ہزار مسلمان کٹ گئے اور دس سال کے لئے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا ، وہ دراصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی خاندانی لڑائی کا شاخسانہ تھا جس نے پوری ملت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حسن بن علیؓ اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین بن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملہ سے بالکل الگ ہو جائیں کیونکہ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں۔ مگر حضرت حسین کی رائے یہ تھی کہ حق کے لئے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ ۶۱ ھ کا ہے۔
اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا، وہ ان کے انتظام ملکی میں ظاہر ہوتا رہا۔ حتی کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو تا کہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعوے دار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہو سکی جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۳۲ھ کے خاتمہ نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا۔
بنو امیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا۔ مگر وہ تمام تر سیاسی تھا۔ اس لئے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا ۔ مگر بنو ہاشم سے یہ جوابی غلطی ہوئی کہ خلافت کو اپنا حق ثابت کرنے کے لئے انھوں نے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک سیاسی قضیہ کو مذہبی حیثیت دے دی اور اس امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues