Al-Risala · March 1977 · page 49

حاصل تھے ، مگر

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹

سید صباح الدین عبدالرحمن ایم اے انھیں کام کے بہترین مواقع مسلم عہد کا علمی و تصنیفی کام مسلم عہد کے علما زیادہ تر بیرونی علما کی تفسیریں سے خوشہ چینی کرتے رہے اور ان کے ہم پایہ تفسیریں نہ لکھ سکے اور جو لکھیں وہ عربی زبان میں ہونے کی وجہ سے خواص تک محدود رہیں، یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کی زبان فارسی رہی، مگر اس زبان میں کلام پاک کا ترجمہ مسلمانوں کی حکومت قائم ہونے کے تقریباً ساڑھے پانچ سو برس بعد شاہ ولی اللہ نے پہلی دفعہ کیا، اور جب انھوں نے اس دولت کو عام کیا تو کم سواد علما نے اس کے خلاف شورشیں برپا کیں۔

ہندوستان کے علما کا سب سے محبوب موضوع فقہ رہا ہے، اور جو علما باہر سے یہاں آئے وہ مفسر اور محدث ہونے کے بجاۓ زیادہ تر فقیہ رہے، ان کو سلاطین اور امرا کا تقرب آسانی سے حاصل ہو جاتا تھا، کیونکہ وہ مسائل میں انہی کی طرف رجوع کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان میں اسلام زیادہ تر فقہا کے ذریعہ سمجھا گیا جو عموماً اپنی سختی اور درشتی کے لیے مشہور ہیں۔ اسی لیے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہندوستان میں اسلام مفسرین اور محدثین کے ذریعہ سمجھا جاتا تو زیادہ موثر ہوتا، فقہ کی اس مقبولیت کے باوجود اہل قلم فقہا زیادہ تر فقہ کی بیرونی کتابوں کے حواشی لکھتے رہے۔ فتاویٰ تاتار خانی اور فتاوائے عالمگیری ہندوستان کے بڑے اہم فقہی کارنامے ہیں، ان دونوں کی تدوین ایک امیر اور ایک بادشاہ کے ذریعہ ہی سے ہوئی۔

حاصل تھے ، مگر

ہندوستان میں ہر قسم کی اسر پرستی کے باوجود کوئی امام غزالی، یا ابن قیم، یا ابن مسکویہ، یا ابن خلدون پیدا نہ ہو سکا، حالانکہ جہاں تک بادشاہوں کا تعلق ہے، ان میں بہت سے ایسے گزرے ہیں جو دنیا کے بڑے سے بڑے حکمرانوں کی صف میں رکھے جاسکتے ہیں مغل بادشاہوں کی حکومت اپنے عروج کے زمانے میں دنیا کی طاقت ور ترین اور مستمدن ترین حکومت سمجھی جاتی تھی۔ اگر ہندوستان کے علماء بھی اسی درجہ کے اور اسلامی ممالک کے علماء کے ہم پایہ ہوتے تو ہندوستان کے مسلمانوں کی دینی، ذہنی، نظری اور فکری نشو و نما اور منہج پر ہوتی۔ حب یورپ میں یقیناً ہر قسم کے علوم و فنون پر کتابیں لکھ کر نئے نظام حیات اور نئے مقصد زندگی کے لیے اپنی اپنی قوموں کو تیار کر رہے تھے۔ اس وقت ہندوستان کے علماء صرف ایسی کتابیں لکھتے رہے جن سے عام مسلمان زیادہ مستفیض نہیں ہو سکے، اور پھر یہ عجیب بات رہی کہ مذہبی زبان عربی تھی، سلاطین اور امرا ر کی زبان ترکی یا فارسی تھی اور عوام خصوصاً مہدی الاصل مسلمان یہاں کے باشندوں کے میل جول سے ایک نئی زبان بولنے کے عادی ہو رہے تھے۔ علما یا تو عربی یا فارسی زبان میں تصنیف و تالیف کرتے جس کی زبان اتنی مشکل ہوتی کہ وہ جو کچھ لکھتے خواص ہی تک محدود رہ جاتا، اور پھر ان میں بھی جو چیز ہوتی وہ صرف تقلید جامد

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page