Al-Risala · March 1977 · page 50

زلزلہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۵۰

زلزلہ

۱۹۷۴ء میں کونٹا کے مقام پر جو زلزلہ آیا تھا، اس کے نتیجہ میں وہاں کے بجلی گھر کو اس قدر نقصان پہنچا کہ پندرہ دن تک بجلی نہ رہی اور تقریباً ایک کروڑ روپے کی صنعتی پیدا وار کا نقصان ہوا۔ دیگر نقصانات اس کے علاوہ تھے۔

یہ نسبتاً ایک معمولی زلزلے کا نقصان تھا اس سے کہیں زیادہ بڑے زلزلے دنیا کے مختلف مقامات پر آتے رہتے ہیں اور انسانی تمدن کو اس طرح تہس نہس کر دیتے ہیں گویا قدرت کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہیں زلزلے کو روکنا انسان کے بس سے باہر ہے۔

تاہم سائنس داں اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس کا وقت اور مقام پہلے سے معلوم کر لیں تاکہ جان و مال کے نقصان سے بچنے کی تدبیر کی جاسکے۔ اس مقصد کے لئے زلزلہ کی ایک انجینئرنگ وجود میں آچکی ہے۔ مگر ابھی تک اس میں کچھ زیادہ کامیابی نہیں ہوسکی۔ زیادہ سے زیادہ جو ہوسکتا ہے، وہ یہ کہ سائنس دانوں نے مستقبل میں آنے والے زلزلوں کے امکانی مراکز کسی حد تک معلوم کرلئے ہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ان مقامات پر جو عمارتیں وغیرہ بنیں، ان کو اس انداز سے بنایا جائے کہ زلزلے کے معمولی جھٹکوں سے انہیں نقصان نہ پہنچے۔ زلزلے کی مدت عام طور پر پانچ دس سیکنڈ ہوتی ہے اور اس تھوڑی سی مدت میں اگر لوگ بچ نکلیں تو ٹھیک ہے نہیں تو لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہوجاتے ہیں۔ روس اور امریکہ وجاپان میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ زلزلے کا وقت اور مقام پہلے سے معلوم کرلیا جائے۔ اس سلسلے میں زلزلے کی علامتوں کا مطالعہ کیا گیا ہے مگر کوئی ایک علامت ایسی نہیں ہیں کی مدد سے ہر بار زلزلے کی پیشنگوئی کی جاسکے۔ زلزلہ قدرت کا ایک ناقابل پیشنگوئی حادثہ ہے، آج بھی اور پہلے بھی۔

موت کے خوف نے ان سے زندگی کی راحتیں چھین لیں ۲۸ جولائی ۱۹۷۶ء کو شمال مشرقی چین میں زلزلہ آیا۔ چین کا تانگسن اب سے بڑا صنعتی شہر نشین جس کی آبادی دس لاکھ تھی، کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔ زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اسکے جھٹکے جاپان اور کوریا تک محسوس کئے گئے چین کی دارجدھانی پیکنگ زلزلہ زدہ شہر سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ تاہم لوگوں کے خوف وہراس کا عالم یہ تھا کہ پیکنگ کی ۷۰ لاکھ آبادی نے ممکنہ موت کے ڈر سے اپنے مکانات چھوڑ دیئے اور کئی راتیں سڑکوں اور پارکوں میں گزاریں جبکہ ان کے سروں پر موسلا دھار بارش ہورہی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page