نمائندے یہ تھے :-
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸
جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لئے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے ۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا ۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی :
انا مدینۃ العلم وعلی بابها میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث دراصل اس طرح ہے :
انا مدینة العلم وابوبکراساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں، ابو بکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیوار ہیں، عثمان اس کی چھت ہیں ، علی اس کا دروازہ ہیں اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاص سے قرآن کو محفوظ کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دین حق گم ہو جاتا اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لئے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے ۔ حدیث مولانا سید ابوالحسن علی ندوی حدیث نبوی کو ہم ایک طرح کا روز نامچہ اور اس ۲۳ سالہ زندگی کا بولتا ہوا مرقع کہہ سکتے ہیں جو آپ نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد اس کرہ ارض پر گزاری۔ یہ محتاط ریکارڈ ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح زندگی گزارتے تھے اور آپ کے شب و روز کے معمولات کیا تھے ۔ اسی طرح ہم اس سے اخلاق نبوی کی باریکیاں عادات و رجحانات، جذبات و خیالات ، قول و عمل کی وہ تفصیلات جان سکتے ہیں جو ہم عہد ماضی بلکہ حال کی بھی بہت سی معاصر شخصیتوں کے متعلق نہیں جان سکتے ۔ اس کے ذریعہ کوئی بھی انسان اپنے نبی کو اس طرح جان پہچان سکتا ، آپ کی صحبت سے مستفید اور آپ کے انفاس قدسیہ سے فیض یاب ہو سکتا ہے کہ گویا وہ آپ کی مجلس میں حاضر ہے اور آپ کی باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ رہ رہا ہے ۔ یہ طریقہ حفاظت و تعارف ان تمام خطرات و مفاسد سے پاک ہے جو تصویر کشی اور مجسمہ سازی میں پائے جاتے ہیں اور جن کی دہ چھلی امتیں بری طرح شکار ہوئیں۔ جنھوں نے اپنے پیغمبروں اور روحانی پیشواؤں کی یاد قائم رکھنے کے لئے تصویر کشی اور مجسمہ تراشی کا سہارا لیا اور بالآخر کھلی بت پرستی میں ملوث ہوگئیں ۔ (منصب رسالت، ۲۱۱)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues