Al-Risala · March 1977 · page 40

مطالعہ کتب

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۰

یہ بات کہ بعض چڑیاں اپنے سابقہ مقام پر واپس جانے کی خصوصی صلاحیت رکھتی ہیں، قدیم انسان کو بھی معلوم تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ٹیلی گراف کی ایجاد سے پہلے کبوتروں کو در دراز مقام پر پیغامات بھیجنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہر سال ستمبر کے مہینہ میں کروڑوں مہاجر چڑیاں ہمالیہ کے اس پار سے ہندوستان آتی ہیں تاکہ یہاں جاڑے کا موسم گذاریں۔ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو وسط ایشیا، مغربی ایشیا، ایران، افغانستان، تبت، روس، سائبیریا، یورپ سے آتی ہیں تاکہ یہاں رہنے لئے غذا اور مسکن حاصل کریں۔ سفر کے دوران انہیں ٹھیک ٹھیک علم رہتا ہے کہ وہ کہاں جارہی ہیں۔ وہ عام طور پر رات رہتی ہیں۔ وہ ساڑھے پندرہ ہزار سے لے کر ۲۰ ہزار فٹ کی بلندی تک اڑتی ہیں۔ ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے وہ ہزاروں میل کا راستہ طے کرتی ہیں۔ اکثر چڑیاں چھ یا آٹھ گھنٹہ کے بعد بریک جرنی کرتی ہیں۔ بعض چڑیاں (مثلاً ایسٹرن گولڈن پلوور) جو مغربی الاسکا اور شمالی سائبیریا میں انڈے بچے کرتی ہے ہندوستان تک ۲۵۰۰ میل کا مسلسل سفر کر کے پہنچتی ہے اور راستے میں کہیں نہیں ٹھہرتی۔ اسنائپ کی ایک قسم جو جاپان میں انڈے بچے کرتی ہے اور جاڑے کا موسم مشرقی آسٹریلیا اور تسمانیہ میں گزارتی ہے، سب سے بڑی "نان اسٹاپ" پرواز کرتی ہے۔ وہ درمیان میں کہیں رکے بغیر تین ہزار میل تک اڑتی چلی جاتی ہے۔

یہ چڑیاں اکثر اتنی بلندی پر اڑتی ہیں کہ کوئی انسان مزید آکسیجن کا اہتمام کئے بغیر وہاں زندہ نہیں رہ سکتا۔ ایشیائی واربلر (چھوٹی چڑیاں) کا ہندوستان سے سائبیریا جاتے ہوئے دور بینی کیمروں سے فوٹو لیا گیا تو وہ ہمالیہ کے اوپر ۲۵۰۰ فٹ کی بلندی سے اڑتی ہوئی پائی گئیں۔

یہ چڑیاں رات کو اور خراب موسم میں سفر کرتے ہوئے کس طرح اپنے صحیح راستہ کو پالیتی ہیں جب کہ انسان کو اس قسم کے سفروں کے لئے راڈار کی ضرورت ہے، یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ابھی تک جدید علما معلوم نہ کر سکے۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ چڑیاں اپنے سر میں ایک قسم کا "پروٹو پلاجک بائیولاجیکل کمپاس" رکھتی ہیں۔ اور یہ ان کے لئے راڈار کی طرح کام کرتا ہے اور زمین کے مقناطیسی پول سے متحرک رہتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ ان کے کان کے اندرونی نالی پر دباؤ ان کو زمین کی گردش کی قوتوں سے باخبر رکھتا ہے۔ مگر یہ سب قیاسات ہیں، جن کے حق میں کوئی سائنسی دلیل موجود نہیں ۔ چڑیوں کے ماہرین نے مختلف مقامات پر مشاہداتی مرکز بناتے ہیں۔ ان کے ذریعہ چڑیوں کی ہجرت کے راستے اور ان کی عمر کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔

مہاجر چڑیاں انسان کی بنائی ہوئی سرحدوں کو نہیں جانتیں۔ انھیں سفر کے قواعد و ضوابط کی پابندی کی ضرورت نہیں۔ واحد قانون جس کی وہ بظاہر پابندی کرتی ہیں، وہ فطرت کا قانون ہے۔ مگر ابھی تک انسان کو نہیں معلوم کہ یہ فطرت کا قانون کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page