Al-Risala · January 1977 · page 49

زیادہ دودھ حاصل کیجئے

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹

لیکن گائے سے زیادہ دودھ لینے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ، اسی کے ساتھ خوراک کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ خوراک کا مطلب یہ نہیں کہ گھاس بھوسہ کھلا کر کسی نہ کسی طرح آپ جانور کا پیٹ بھر دیں۔ اس کے لئے متوازن خوراک انتہائی ضروری ہے۔ یعنی ہری گھاس ، بھوسہ ، دانہ اور اسی کے ساتھ ضروری معدنیات۔ مثلاً گائے کی خوراک میں اگر آپ ترنگ شامل نہ کریں تو اس کے دودھ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کیلشیم اور فاسفورس وغیرہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہیکڑ زمین سے ، ادویہ مویشیوں کے لئے سال بھر تک متوازن چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خدا نے اپنی اس دنیا میں انسان کے لئے بے حساب امکانات رکھ دیئے ہیں۔ مگر انسان اپنی بے دانشی یا محنت کی کمی کی وجہ سے ملے ہوئے امکانات کا پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔

زیادہ دودھ حاصل کیجئے

ایک گائے کے کئی بچے ہوں تو سب میں دودھ یکساں نہیں ہوگا۔ کسی میں کم ہوگا ، کسی میں زیادہ۔ یہ ایک عام مشاہدہ ہے۔ اگر آپ ایک گائے کے بچوں میں سے زیادہ دودھ والے بچے کا انتخاب کریں۔ اور پھر اس کے بعد اس کے بھی مختلف بچوں میں سے جس کا دودھ زیادہ ہو ، اس کو لیں تو کئی نسلوں کے بعد شاید آپ ایک ایسی گائے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو ابتدائی ماں کے مقابلہ پر دگنا دودھ دیتی ہو۔ تاہم اس عمل میں آپ کو ایک سو برس لگ جائیں گے۔ مگر پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی میں جو تجربے کئے گئے ہیں ان سے معلوم ہوا ہے کہ یہی مقصد دو نسلی گائے (CROSS-BRED) کے ذریعے صرف چھ مہینے میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مسٹر بی۔ ایم۔ برلا نے ایک بار اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اگر پیداوار بڑھانے کی کوشش کی جائے تو موجودہ صدی کے خاتمہ تک ہندوستان دنیا کے سب سے زیادہ مضبوط اور خوش حال ملکوں کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے اور اس کی فی کس آمدنی جو اس وقت صرف ایک سو ڈالر سالانہ ہے ، بڑھ کر تین سو ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جاپان کے پاس اگر چہ لوہا اور کوئلہ نہیں ، مگر وہ ۱۹۱۴ء میں اس کی لوہے کی پیداوار نصف ملین ٹن تھی اور ۱۹۷۶ میں ۱۲۰ ملین ٹن پہنچ چکی ہے جب کہ ہندوستان کے پاس ہر قسم کے خام ذخائر ہیں۔ پھر بھی یہ حال ہے کہ ۱۹۴۷ میں اس کی لوہے کی پیداوار ۲۵ را ملین ٹن تھی اور آج ۵ ملین ٹن ہے۔ (ہندوستان ٹائمنس ، ۵ مئی ۱۹۷۶) حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ وسائل کو استعمال کرنے کا ہے۔ کسی شخص یا قوم میں کرنے کا جذبہ پوری طرح ابھر آئے تو صفر سے شروع کر کے بڑی بڑی کامیابیاں تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے اور اگر کرنے کا جذبہ نہ ہو تو وسائل کی افراط کے درمیان بھی کسی کامیابی کی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہر آدمی اپنی کامیابی کا راز خود اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے، اگر چہ اپنی بے خبری سے وہ اس کو اپنے باہر ڈھونڈ رہا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1977 All issues

Printed page