جدید انسان کی تلاش
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۱
جدید انسان کی تلاش
زیان فرانسیس ایویل کی کتاب "مارکس یا مسیح " (Without Mary or Jesus کا ترجمہ میڈالین ایم۔ او ہئیر، امریکہ کی مشہور ترین ملحد خاتون ہیں ۔ وہ کھلم کھلا اپنے الحاد کی تبلیغ کرتی ہیں ۔ ان کے اخبار میں ہر ہفتے ملحدین کی فرانس میں شائع ہوئی ۔ کتاب میں مصنف نے بوڈیلیئر کا قول نقل کیا ہے جس نے تجویز کیا تھا کہ انسانی حقوق کے اعلان میں دو مزید حقوق شامل کئے جائیں۔ ایک، آپ اپنی تردید کرنے کا حق۔ دوسرے کنارہ کشی کا حق۔ امریکی بیع کر رہی ہیں ۔ بے خدا پرست والدین کی یہ بیٹی اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے : " مجھے ان کے اعتقادات کا علم تھا اور احتراماً بھی کرتی تھی۔ مگر ۱۳ سال کی عمر میں اتوار کا پورا دن انجیل پڑھتے رہنے کے بعد میں اس کی عمر - نوجوان آج اسی انقلاب کی طرف جارہا ہے۔ ایک طرف وہ ایک ایسے سماج کو رد کر رہا ہے جس کا محرک صرف منافع ہو اور جس پر صرف اقتصادی امور کا غلبہ ہو۔ دوسری طرف اسے روایتی مذاہب پر بھی اطمینان نہیں۔ کیوں کہ اس کے نزدیک بہترین مذہب وہ ہے جسے آدمی خود دریافت کرے۔ امریکی نوجوان کے جدید رجحانات کے چند خاص پہلو یہ ہیں: اخلاقی قدروں کی طرف رجوع کرنے کا ذہن۔ خالص اقتصادی اور تکنیکی سماجی مقاصد سے انکار، قدرتی ماحول کو تجارتی منفعت سے زیادہ اہم سمجھنا۔ مصنف کے الفاظ میں۔ ” آج امریکہ میں ایک نیا انقلاب سر اٹھا رہا ہے۔ یہ بنی نوع انسان کے لئے واحد راہِ فرار پیش کرتا ہے یعنی یہ کہ ٹکنالوجیکل تہذیب کو بطور ایک وسیلے کے قبول کیا جائے نہ کہ بطور ایک مقصد کے۔ اور چونکہ ہمیں نہ اس تہذیب کی تباہی بچا سکتی ہے اور نہ اس کا استمرار، اسی لئے اس قابلیت کو بھی بڑھایا جائے کہ ہم اس تہذیب کو فنا کئے بغیر اسے ایک نئی شکل دے سکیں“ یہ ذہن جس کی نمائندگی اس کتاب میں کی گئی ہے، ایک ایسے آدمی کی بے چینی کی طرح ہے جسے خود اپنی بے چینی کا سبب معلوم نہ ہو۔ امریکی نوجوان مادی تہذیب سے، خلافِ عقل باتوں سے متنفر ہوگئی۔ " ۷۲ جس کی آخری نمائندگی مارکس نے کی، بالکل طور پر غیر مطمئن ہو چکا ہے۔ وہ دوبارہ اس "ماضی" کو دیکھنے لگا ہے جس کو اس کے باپ دادا نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر یہاں "ماضی" کی نمائندگی کرنے والی جو چیز ملتی ہے وہ عیسائیت ہے۔ عیسائیت اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ خالص علمی وعقلی ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ اس لئے وہ "مارکس" کے ساتھ "مسیح" کا بھی باغی ہو جاتا ہے۔ تا ہم جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے بعد وہ جس چیز کا طالب ہے، وہ اس کے اپنے الفاظ میں وہی چیز ہے جس کا جواب صرف مذہب کے اندر ہے۔ تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مجہوں احساس کے ساتھ اسی چیز کی تلاش میں ہے جس کو مذہب کہتے ہیں مصنف نے اپنی کتاب کا نام "نہ مارکس نہ مسیح" رکھا ہے۔ مگر باعتبارِ حقیقت اس کا نام ہونا چاہئے تھا " نہ مارکس نہ مروجہ عیسائیت"
انسان مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر مذہب کی غلط نمائندگی اس کو دوبارہ مذہب سے دور لے جارہی ہے۔ یہ ہے دور جدید کا سب سے بڑا المیہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues