Al-Risala · March 1977 · page 42

آپ بیتی

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۲

آپ بیتی

نومبر کا مہینہ تھا اور رات کے تقریباً ۱۲ بجے کا وقت۔ طالب علم اپنے کمرہ میں سورہا تھا۔ اس کی چارپائی کے پاس شیلف میں مجلد کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ طالب علم نے نیند کی حالت میں کروٹ لی اور اس کا ہاتھ شیلف پر چلا گیا۔ اچانک وہ ایک چیخ کے ساتھ اٹھ بیٹھا۔ دیکھا تو ہاتھ کی انگلی میں دانت دھنسنے کا نشان تھا اور خون بہہ رہا تھا: "مجھے سانپ نے کاٹ لیا" وہ چلایا اور کمرہ کے باہر نکل آیا۔ اس کی آواز سن کر قریب کے کمروں کے لڑکے بھی جمع ہوگئے۔ اس وقت طالب علم کا جسم پسینہ سے تر تھا اور وہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ دہشت کا یہ عالم تھا کہ ایک شخص نے علاج کی غرض سے نیم کی پتیاں لاکر دیں تو وہ بے تکلف ان پتیوں کو کھا گیا اور اسے کڑوے پن کا احساس تک نہیں ہوا۔

وہاں ایک اور طالب علم تھا جس کا پورا خاندان طبیبوں کا تھا۔ اس نے آکر رمار گزیدہ طالب علم کا ہاتھ دیکھا۔ اس کے زخم پر نظر ڈالی " دانت تو ضرور دھنسے ہیں مگر یہ دانت..... " اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے ایک ڈنڈا لیا اور کمرے میں روشنی کرکے اس کو اندر سے بند کر لیا۔ جو لوگ کمرہ کے باہر کھڑے تھے انھوں نے اندر سے ڈنڈا پیٹنے کی آواز سنی تو انھوں نے سمجھا کہ وہ سانپ کو مار رہا ہے۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد جب وہ طالب علم کمرہ سے باہر نکلا تو اس کے ہاتھ میں سانپ کے بجائے ایک مرا ہوا چوہا تھاجس کو وہ دم سے پکڑ کر لٹکائے ہوئے تھا۔ "دیکھو یہ تھی وہ چیز جس نے تمہیں کاٹا ہے"۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مدد مجھے تمہاری انگلی کا زخم دیکھتے ہی شبہ ہو گیا تھا کہ یہ سانپ کا کاٹا نہیں ہو سکتا۔ چوہے کے دانت اور سانپ کے دانت میں فرق ہوتا ہے لیکن اگر میں یوں ہی کہتا تو تمہیں یقین نہ آتا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ پہلے چوہے کو پکڑ کر ماروں اور اس کے بعد تمہیں بتاؤں کہ حقیقت کیا ہے۔ ‘‘ یہ باتیں سن کر اور مرا ہوا چوہا دیکھ کر یکایک طالب علم اٹھ بیٹھا۔ اب وہ بالکل اچھا تھا ’’مجھے یاد آیا۔ ‘‘ اس نے کہا ’’کل ہی میرے یہاں نئی نئی کتابیں جلد بن کر آئی ہیں، نئی جلدوں میں نئی کی بو پا کر اکثر چوہے آجاتے ہیں اور وہی قصہ یہاں بھی پیش آیا۔ ‘‘ وہی طالب علم جس پر چند منٹ پہلے موت کی بدحواسی طاری تھی اب بالکل ہشاش بشاش اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہا تھا۔ حالانکہ اس کا کوئی علاج نہیں کیا گیا تھا۔ اس کو صرف یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ اس کو جس چیز نے ڈسا ہے وہ سانپ نہیں بالکل چوہا ہے۔ یہی حال ہماری قوم کا ہے۔ ہماری قوم اس وقت اپنے مسائل سے اس قدر پریشان ہے کہ زندگی کا حوصلہ تک اس سے رخصت ہو رہا ہے مگر یہ پریشانی حقیقی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔ اگر قوم کے دل میں یہ بات اتاری جاسکے کہ تمہارا مسئلہ چوہے کا مسئلہ ہے نہ کہ سانپ کا مسئلہ تو قوم کی حالت بالکل بدل جائے گی اور وہ حوصلہ اور اعتماد کی ان تمام نعمتوں کو دوبارہ پالے گی جن کو وہ موجودہ حالت میں کھو چکی ہے۔

محمد خالد اعظمی (پیدائش ۱۹۴۸)

اردو لٹریری پریس۔ اسٹریٹ نمبر ۴ شاہدرہ، دہلی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page