اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۸
مسجد کو مسید اور شجرات کو سرات کہتے تھے۔ اسی طرح بنو تمیم ق کو جیم بولتے تھے، مثلاً طریق کو طریج ، صدیق کو صَدِیق ، قَدَر کو جدر اور قاسم کو جاسم کہتے تھے۔ اس طرح مختلف قبائل کے ملنے سے لسانی تاریخ کے عام قانون کے مطابق ایک نیا عمل شروع ہونا چاہئے تھا جو بالآخر ایک نئی زبان کی تشکیل پر منتہی ہوتا۔ مگر قرآن کے برتر ادب نے عربی زبان کو اس طرح اپنے قبضہ میں لے رکھا تھا کہ اس کے اندر اس قسم کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ اس کے برعکس وہ واقعہ پیش آیا جس کو ڈاکٹر احمد حسین زیات نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
اسلام کے بجائے عربی زبان، ایک قوم کی زبان نہیں رہی، بلکہ ان تمام قبائل کی زبان بن گئی جو خدا کے دین میں داخل ہوئے تھے۔
ما كانت لغة مُضر بعد الاسلام لغة امة وحدہ وانما كانت لغة لجميع الشعوب التي دخلت في دين الله پھر یہ عرب مسلمان اپنے ملک سے باہر نکلے۔ انھوں نے ایک طرف جبل الطارق تک اور دوسری طرف کاشغر تک فتح کر ڈالا۔ ان علاقوں میں مختلف زبانیں رائج تھیں۔ وہ فارسی، قبطی، بربری، عبرانی، سریانی، یونانی، لاطینی، آرامی زبانیں بولتے اور لکھتے تھے۔ ان میں ایسی قومیں بھی تھیں جو اپنے سیاسی نظام اور اپنے تمدن میں عربوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھیں۔ وہ عراق میں داخل ہوئے جو ایک قدیم تمدن کا حامل تھا اور بڑی بڑی قوموں کا مرکز رہ چکا تھا۔ ان کا ایران سے اختلاط ہوا جو اس وقت کی دو عظیم ترین شہنشاہیتوں میں سے ایک تھا۔ ان کا تصادم رومی تہذیب اور عیسائی مذہب سے ہوا جو زیر دست ترقی کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا سابقہ شام سے پیش آیا جہاں فینیقی، کنعانی، مصری، یونانی، غسانی قوموں نے اپنے آداب و اطوار کے نمایاں اثرات چھوڑے تھے۔ ان کا مقابلہ مصر سے ہوا جہاں مشرق و مغرب کے فلسفے آگرلے تھے۔ یہ اسباب بالکل کافی تھے کہ عربی میں ایک نیا عمل شروع ہو اور ابتدائی زبان کے ساتھ ان نئے عوامل کے اثر سے ایک اور زبان وجود میں آجاۓ جیسا کہ دوسری زبانوں کے ساتھ ہوا۔ مگر اتنے بڑے لسانی بھونچال کے باوجود قرآن اس زبان کے لئے ایک ایسا برتر معیار بنا رہا جس نے تمام دوسرے عوامل کو اس کے لئے بے حقیقت بنا دیا۔
اسلام کی فتوحات کے بعد عربی زبان صرف ایک ملک کی زبان نہ رہی بلکہ کئی درجن ملکوں اور قوموں کی زبان بن گئی۔ ایشیا اور افریقہ کی عجمی اقوام نے جب اسلام قبول کیا تو ان کی زبان بھی دھیرے دھیرے عربی بن گئی۔ فطری طور پران غیر ملکی اقوام میں عربی زبان بولنے کی وہ قدرت نہ تھی جو خود عربوں میں تھی۔ ان کی زبان میں اپنی غیر عربی زبانوں کے اثر سے بہت سی خامیاں پیدا ہوگئیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ خود عربوں میں جو لوگ زیادہ باشعور نہ تھے، دھیرے دھیرے وہ ان قوموں سے اثر لینے لگے۔ یہاں تک کہ خود ان کی زبان بدلنا شروع ہوگئی۔ بڑے بڑے شہروں میں یہ غلطیاں سب سے زیادہ تھیں، کیونکہ یہاں مختلف قوموں کے لوگ جمع تھے۔ بڑھتے بڑھتے یہ خرابی خواص تک پہنچ گئی نہ یاد بن امیہ کے دربار میں ایک بار ایک شخص آیا اور بولا: توفى ابانا دترك بنون (ہمہارا باپ مرگیا اور اولاد چھوڑ گیا) اس جملہ میں ابانا کی جگہ ابونا ہونا چاہئے تھا اور بنون کی جگہ بنین۔ اس طرح کے بے شمار فرق پیدا ہو گئے۔ دیگر تاریخی زبانوں
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues