اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۹
کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عربی زبان کے ساتھ بھی لازماً ہوتا۔ مگر یہاں بھی قرآن کی ادبی عظمت عربی کے لئے ڈھال بن گئی اور عربی زبان کی صورت پھر بھی وہی باقی رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کردی تھی۔
اس طرح کے واقعات جو عربی زبان کی پچھلی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں بار بار پیش آئے ہیں قرآن کے معجزہ ہونے کا کھلا ہوا ثبوت ہیں کیونکہ یہ تمام تر قرآن کی عظمت ہی کا نتیجہ تھا جس نے عربی کو کسی تغیری عمل کا معمول بننے نہ دیا۔ دوسری صدی ہجری میں اموی سلطنت کا خاتمہ اور عباسی سلطنت کا قیام عربی زبان کے لئے زبردست فتنہ تھا۔ بنی امیہ کی حکومت خالص عربی حکومت تھی۔ اموی حکمران عرب قومیت اور عربی زبان و ادب کی حمایت میں جانب داری او تعصب کی حد تک سخت تھے۔ انھوں نے اپنا پایہ تخت دمشق کو بنایا تھا جو عرب و بہات کی سرحد پر واقع تھا۔ ان کی فوج، دفتری عملہ اور افسران سب عرب ہوا کرتے تھے۔ مگر عباسی حکومت میں ایرانیوں کا غلبہ ہوگیا۔ عباسیوں نے ایرانیوں ہی کی مدد سے بنی امیہ کا خاتمہ کیا تھا، اس لئے ان کے نظم و نسق میں ایرانی اعاجم کا عمل دخل ہو جانا لازمی تھا، حتی کہ عباسیوں نے دارالحلافہ بغداد کو قرار دیا جو ایران سے بہت قریب تھا۔ انھوں نے ایرانیوں کو اتنی چھوٹ دی کہ وہ حکومت کے سارے معاملات میں آزادانہ کارروائیاں کرنے لگے۔ انھوں نے عرب اور عرب تہذیب کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اس کو بالقصد کمزور کرنے کی تدبیریں کرنے لگے۔ عربی عصبیت کے کمزور ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی، ترکی، سریانی، رومی اور بربری عناصر حکومت اور سماج کے تمام معاملات پر چھا گئے۔ عربوں اور غیر عربوں میں رشتہ داریاں عام ہوئیں۔ آریائی تہذیب اور سامی تہذیب کے ملنے سے زبان اور تہذیب میں نیا انقلاب آگیا۔ اکاسرہ کے پوتے اور فریم جاگیر داروں کے بیٹے پھر سے ابھر آئے ۔ انھوں نے اپنے آبا واجداد کی تہذیب کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔ ان واقعات کا عربی زبان پر بہت گہرا اثر پڑا۔ متنبی ( ۹۴۵ - ۹۶۵ء) کے زمانہ میں عربی کی جو حالت ہو چکی تھی، اس کا اندازہ اس کے چند اشعار سے ہوتا ہے :
مَعَاقِی الشَّعْبِ طِیْبَاً فِی الْمُعَافِی وَمِنْزَلَةُ الرَّبِیْعِ مِنَ الزَّمَانِ وَلَکِنَّ الْفَتَی الْعَرَبِیُّ فِیھَا غَرِیْبُ الوَجْھِ وَالْیَدِ وَاللِّسَانِ مَلَاعِیْبُ جِنَّةٍ لَوْ سَادَ فِیْھَا سُلَیْمَانِ لِسَادِ بـِتـَرْجـُمَانِ شرح دیوان المتنبی (بیروت ۱۹۳۸) صفحہ ۳۸ " شب بوان (ایران) کے مکانات عمدگی میں تمام مکانوں سے اسی طرح بڑھے ہوئے ہیں جس طرح زمانہ کی تمام فصلوں میں بہار کی فصل، مگر اس بستی میں ایک عرب جوان (میرا) اپنے چہرہ، ہاتھ اور زبان کے لحاظ سے بالکل اجنبی ہے۔ سلیمان جن کے تابع جنات تھے (جو جانوروں تک کی بولیاں سمجھتے تھے) اگر اس علاقہ میں آئیں تو انھیں اپنے ساتھ ترجمان رکھنا پڑے گا۔ ترکوں اور کردوں نے بھی اس سلسلے میں ایرانیوں کی تقلید کی۔ مگر قرآن کی ادبی عظمت عربی زبان کے لئے ڈھال بنی رہی۔ اس قسم کی کوششوں سے وقتی ہلچل تو ضرور پیدا ہوئی مگر جلدی وہ دب رہ گئی اور عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کرسکی۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues