اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۰
خلیفۂ متوکل (۱۷ - ۲۴۷ ھ) کے بعد عجمی اقوام ، ایرانی اور ترک ، عرب علاقے میں بہت زیادہ دخیل ہو گئے۔ ۶۵۶ ھ میں ہلاکو خاں نے بغداد کی سلطنت کو برباد کر دیا۔ ۵۹۵ ھ میں اندلس کی عرب حکومت کو یورپی اقوام نے ختم کر دیا۔ ۹۲۳ ھ میں مصر و شام سے فاطمیوں کا خاتمہ ہو گیا اور ان عرب علاقوں کی حکومت عثمانی ترکوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ اسلامی حکومت کا دارالسلطنت قاہرہ کے بجائے قسطنطنیہ ہو گیا اور سرکاری زبان عربی کے بجائے ترکی قرار پائی۔ عربی زبان میں غیر زبان کے الفاظ اور اسالیب کثرت سے آنے لگے۔
عالم عرب پر ساڑھے پانچ سو سال ایسے گزرے ہیں جب کہ تمام غریب دنیا بھی بادشاہوں کے جھنڈے کے نیچے رہی، حتی کہ مغل، ترک اور ایرانی حکمران عرب آثار تک کو مٹانے پر تلے رہے۔ عربی کے کتب خانے جلائے گئے، مدرسے اجاڑے گئے، علماء کو ذلیل کیا گیا۔ عثمانی سلطنت نے اپنی ساری طاقت کے ساتھ عربوں کو ترک بنانے کی وہ مہم چلائی جس کو جمال الدین افغانی نے بجاطور پر "ترک بک العرب" کہا ہے۔ مگر ان میں سے کوئی واقعہ بھی عربی زبان میں کوئی مستقل تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔ بغداد و بخارا میں، تاتاریوں نے، شام میں صلیبیوں نے اور اندلس میں یورپی قوموں نے عربی زبانِ ادب اور عرب تہذیب کو جو نقصانات پہنچائے وہ عربی زبان کا نام و نشان مٹانے کے لئے بالکل کافی تھے۔ اس کے بعد، دوسری زبانوں کی تاریخ کے مطابق، یہ ہونا چاہئے تھا کہ عربی زبان اپنی دیگر سامی زبانوں سے مل جاتی۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تروک کی جہالت اور ایرانیوں کا تعصب اگر حائل نہ ہوا ہوتا تو عربی زبان آج تمام دنیا کے مسلمانوں کی واحد زبان ہوتی۔ تاہم جہاں تک عرب علاقے کا تعلق ہے، وہاں اس کا بدستور اپنی سابقہ شان میں باقی رہ جانا تمام تر قرآن ہی کا معجزہ تھا۔ قرآن کی عظمت نے اس مدت میں لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ عربی زبان سے اپنا تعلق حکومت و اقتدار کے علی الرغم باقی رکھیں یہی وجہ ہے کہ اس دور میں بھی بے شمار ایسے لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے عربی زبان و ادب کی خدمت کی۔ مثال کے طور پر ابن منظور (۱۱ - ۷۱۱ ھ) ابن خلدون (۸۰۸ - ۳۲ ۷ ھ) وغیرہ۔
نپولین کے قاہرہ میں داخلہ ۹۸ ۱ء کے بعد جب مصر میں پریس آیا اور تعلیم کا دور دورہ ہوا تو عربی زبان کو نئی زندگی ملی تاہم پچھلے سیکڑوں برس کے حالات نے یہ صورتِ حال پیدا کر دی تھی کہ مصر و شام کے دفاتر کی زبان ترکی و عربی کا ایک مرکب تھا۔
۱۸۸۲ء میں مصر پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد پھر صورتِ حال بدلی۔ انھوں نے عربی کے خلاف اپنی ساری طاقت لگا دی۔ تمام تعلیم انگریزی کے ذریعہ لازمی کر دی گئی۔ مختلف زبانیں سکھانے کے آثار سے ختم کر دیئے گئے اسی طرح جن عرب علاقوں پر فرانسیسیوں کا غلبہ ہوا، وہاں انھوں نے فرانسیسی کو رواج دیا۔ مگر تقریباً سو سال تک انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے غلبہ کے باوجود عربی زبان بدستور اپنی صلاحیات پر باقی رہی اس میں الفاظ کی وسعت ضرور پیدا ہوئی. مثال کے طور پر ٹینک کے لئے ذبابہ کا لفظ رائج ہوا جو پہلے معمولی مچھر نچ کے لئے بولا جاتا تھا۔ اسی طرح طر ز بیان میں وسعت پیدا ہوئی مثلاً نو مسلموں کے حالات پر آج ایک کتاب شائع ہو تو اس کا نام رکھا جاتا ہے لماذا اسلمنا ۔ جب کہ اس سے پہلے مسیح ومقفّیٰ ناموں کا رواج تھا۔ اسی طرح بہت سے الفاظ معرب ہو کر رائج ہوئے مثلاً ڈاکٹر و ڈاکٹر۔ مگر یہ بہت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues