Al-Risala · March 1977 · page 11

اجتماعی انقلابات،

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۱

اصل زبان میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اصل زبان بدستور وہی آج بھی ہے جو قرآن کے نزول کے وقت مکہ میں رائج تھی۔ ادنی ارتقا زبانوں میں تبدیلی کا دوسرا سبب ادیبوں اور مصنفوں کے کارنامے ہیں۔ جب بھی کوئی غیر معمولی ادیب یا مصنف پیدا ہوتا ہے، وہ زبان کو کھینچ کرنے لسانی اسلوب کی طرف لے جاتا ہے، اس طرح زبان تبدیل اور ارتقار کے مراحل طے کرتی رہتی ہے، اور بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں اس کے برعکس، ایسا ہوا کہ قرآن نے اول روز ہی ایسا برتر معیار سامنے رکھ دیا کہ کسی انسانی ادیب کے لئے ممکن نہ ہوسکا کہ وہ اس سے اوپر جا سکے ۔ اس لئے عربی زبان اسی اسلوب پر باقی رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کر دیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، عربی زبان میں قرآن کے بعد کوئی دوسرا "قرآن" نہ لکھا جاسکا، اس لئے زبان بھی قرآنی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہ بن سکی۔ انگریزی زبان کی مثال لیجئے ۔ ساتویں صدی عیسوی میں وہ ایک معمولی مقامی بولی کی حیثیت رکھتی تھی جس کی علمی خیال کو ظا ہر کرنا ممکن نہ تھا۔ پانچ سو برس سے بھی زیادہ عرصہ تک یہی حال رہا۔ انگریزی زبان کا شمار اول چاپر چاسر (۱۳۰۰ء - ۱۳۰۰ء) پیدا ہوا تو انگلستان کی درباری زبان فرانسیسی تھی ۔ چاسر جو لاطینی فرانسیسی اور اطالوی زبانیں جانتا تھا، اس نے انگریزی میں اشعار کہے اور نظمیں لکھیں۔ اپنی غیر معمولی ذہانت اور دیگر زبانوں سے واقفیت کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب ہوسکا کہ انگریزی بولی کو آگے لے جائے اور اس کو ایک علمی زبان کا روپ دے۔ باسر (ERNEST HAUSER) کے الفاظ میں اس لئے اپنی کامیابی لفظوں کے ذریعہ انگریزی کو ایک مضبوط بڑھاوا (FIRM BOOST) دیا ۔ اس نے ایک بولی کو ایسی طاقت ور زبان بنا دیا جس میں ترقی کے نئے امکانات چھپے ہوئے تھے۔ (پیڈرڑ تو انجشٹا۔ جون ۵۷ء (۱۹) دو سو برس تک چاسر انگریزی شاعروں اور ادیبوں کا رہنما بنا رہا۔ یہاں تک کہ دیم شکسپیر (۱۶۲۵ - ۱۵۵۸) کا ظہور ہوا جس نے چاسر سے زیادہ بہتر ادب کا نمونہ پیش کیا۔ اپنے اشعار اور ڈراموں کے ذریعہ اس نے انگریزی کو دوبارہ ایک نیا معیار عطا کیا۔ اب انگریزی زبان ایک قدم اندر آگے بڑھی اور ترقی کی نئی شاہراہ پر سفر کرنے لگی. یہ دور تقریبا ایک سو برس تک رہا، یہاں تک کہ سائنس کے ظہور نے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ادب میں بھی، دوبارہ نئے معیار قائم کرنے شروع کئے ۔ اب شعر کے بجائے نشر، اور افسانہ نویسی کے بجائے واقعہ نگاری کو اہمیت ملنے لگی اس کے اثر سے انگریزی میں سائنٹفک اسلوب وجود میں آیا ۔ سونیٹ (۵۴۱ ۵۸ ۱۷۹۶) سے لے کر ٹی ۔ ایس ایلیٹ (۱۹۸۵) تک درجنوں ادیب پیدا ہوئے جنھوں نے زبان کو وہ نیا معیار عطا کیا جس سے اب ہم گزر رہے ہیں ۔ یہی عمل تمام زبانوں میں ہوتا ہے ۔ ایک کے بعد دوسرا زیادہ سے زیادہ ننے والا ادیب درمیوں کا گروہ اٹھتا ہے اور دہ کو نیا اسلوب دے کرنے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس طرح زبان بدلتی رہتی ہے یہاں تک کہ چند صدیاں گزرنے کے بعد اتنا فرق ہوجاتا ہے کہ اگلے لوگ پچھلی زبان کو لغات اور شرح کے بغیر سمجھ ہی نہ سکیں۔ اس کلیہ سے صرف ایک زبان مستثنیٰ ہے اور وہ عربی زبان ہے۔ یہی واقعہ قرآن کے اس دعوے کے ثبوت کے لئے کافی ہے کہ کوئی شخص قرآن جیسی کتاب وضع نہیں کر سکتا۔ بلا شبہ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ پچھلی صدیوں میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page