اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۲
متعدد دلگوں نے قرآن کے جواب میں دوسرا قرآن لکھنے کی کوشش کی، مگر سب کے سب ناکام رہے۔ مثال کے طور پر مسیلمہ بن حبیب، طلیحہ بن خویلد، نضر بن الحارث، ابن الراوندی، ابو العلاء المعری، ابن المقفع، متنی وغیرہ۔ اس سلسلے میں ان کی جو عبار تیں نقل کی گئی ہیں، وہ اتنی سطحی ہیں کہ قرآن کے مقابلہ میں ان کو رکھنا بھی مسخرہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً مسیلمہ کے "قرآن" کا ایک حصہ یہ تھا:
يا ضفدع نقّی ما تنقين، فلا الماء تكدرين ولا الشار ب تمنعين اے مینڈکی جتنا ٹرا کر سکے ٹرا لے، تو نہ پانی کو گندا کرے گی نہ پینے والوں کو روکے گی۔ اسی طرح مسیلمہ کا ایک اور " الہام" یہ تھا:
لقد انعم الله على الحبلي، اخرج منها نسمة تسعى، من بين صفاق وحشا تہذیب سيرة ابن هشام، جلد دوم، صفحه ۱۲۱ اللہ نے حاملہ عورت پر بڑا انعام کیا ہے، اس کے اندر سے دوڑتی ہوئی جان نکالی، جھلی اور پیٹ کے اندر سے تا ہم اس سے بھی زیادہ بڑا ثبوت وہ مسلسل واقعہ ہے جس کو ارنسٹ رینان نے ایک لسانی معجزہ قرار دیا ہے جس طرح دوسری زبانوں میں زبان آور پیدا ہوئے، اسی طرح عربی میں بھی شعراء اور ادبا اور مصنفین پیدا ہوئے اور پیدا ہو رہے ہیں، مگر اس پوری مدت میں کوئی ایساباں دال نہ اٹھا جو قرآن سے برتر ادب پیش کر کے عربی میں نلسانی معیار قائم کرتا اور زبان کو نئے مرحلہ کی طرف لے جاتا۔ اس لئے زبان اسی مرحلہ ترقی پر قائم رہی جو قرآن نے اس کے لئے مقرر کر دیا تھا۔ اگر دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوتے جو قرآن کے مقابلہ میں زیادہ اعلیٰ ادب کا نمونہ پیش کرتے تو نا ممکن تھا کہ زبان ایک مقام پر رکی رہے۔
قرآن کی مثال عربی زبان میں ایسی ہی ہے جیسے کسی زبان میں آخری اعلیٰ ترین ادیب اول روز ہی پیدا ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا ادیب نہیں ابھرے گا جو زبان میں کوئی تبدیلی پیدا کر سکے۔ قرآن کے نزول کے زمانہ میں جو زبان عرب میں رائج تھی، اس کو ترقی دے کر قرآن نے اعلیٰ ترین ادب کی شکل میں ڈھال دیا۔ اس کے بعد اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہ تھا۔
قرآن نے عربی کے روایتی اسالیب پر اضافے کر کے اس میں توسیع کا دروازہ کھولا، مثال کے طور پر سورہ اخلاص میں لفظ " احد" کا استعمال۔ عربی زبان میں اس سے پہلے یہ لفظ مضاف مضاف الیہ کے طور پر استعمال ہوتا آیا تھا جیسے یوم الاحد (ہفتے کا دن) یا نفی عام کے لئے جیسے ما جاء فی أحد لامر سے پاس کوئی نہیں آیا) وغیرہ مگر قرآن نے یہاں لفظ احد کو ہستی یا رمی تعالیٰ کے لئے وصف کے طور پر استعمال کیا جو عربی زبان میں غیر معمولی تھا۔ عربی میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل کئے مثلاً استبرق، سرادق (فارسی) حص (اط(یونانی) یم (سامی) اسی طرح قسطاس، سجيل، مشكاة، جهت، سندس، زئجبيل وغیرہ۔ مکہ کے مشرکین نے جب کہا تھا کہ وما الرحمن (فرقمان - (4) تو اس کا لسانی پس منظر یہ تھا کہ رحمان کا لفظ عربی نہیں یہ سریانی اور حمیری زبان سے آیا ہے بین اور حبشہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues