Al-Risala · March 1977 · page 13

اجتماعی انقلابات،

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۳

سکے نصرانی اللہ کو حمن کہتے تھے۔ قرآن نے اس لفظ کی تحریف کر کے اس کو اللہ کے لئے استعمال کیا تو مکہ والوں کو وہ اجنبی محسوس ہوا۔ انھوں نے کہا ہر رحمان کیا ہے؟ قرآن میں غیر عربی الاصل الفاظ ایک سو سے زیادہ شمار کئے گئے ہیں جو فارسی رومی، نبطی، حبشی، عبرانی، سریانی قبلی زبانوں سے لے گئے ہیں۔

قرآن اگرچہ قریش کی زبان میں اترا۔ مگر دوسرے قبائل عرب کی زبان بھی اس میں شامل کی گئی۔ مثلاً قرآن میں "فاطر" کا لفظ آیا ہے، عبد اللہ بن عباس جو ایک قریشی مسلمان تھے، کہتے ہیں: ما کنت ادری معنی فاطر السماوات والارض میں فاطر السماوات والارض کے معنی نہیں سمجھتا تھا حتی سمعت اعرابی یقول لبئر ابتدأ احفرھا : یہاں تک کہ ایک اعرابی جس نے ایک کنواں کھودنا شروع انا فطر تھرا کیا تھا، کہا، "انا فطر تھا ۔ تب میں اس کو سمجھا۔

ابو ہریرہ رضہ کہتے ہیں:

ما سمعت السکین الافی قولہ تعالی (یوسف - ۳۱) میں نے سکین (چھری) کا لفظ پہلی بار قرآن کی آیت ما کنا نقول الا المدینة سے جانا۔ اس سے پہلے ہم اس کو مدینہ کہا کرتے تھے۔

بہت سے الفاظ ایسے تھے جن کے مختلف لہجے عرب قبائل میں رائج تھے۔ قرآن نے ان میں سے فصح تر تلفظ کا انتخاب کر کے اس کو اپنے ادب میں استعمال کیا۔ مثلاً قریش کے یہاں جس مفہوم کے لئے اعطی کا لفظ تھا اس کے لئے حمیرن کے یہاں انطی بولا جاتا تھا۔ قرآن نے انطی کو چھوڑ کر اعطی کا انتخاب کیا۔ اسی طرح شناتر کی جگہ اصابع کتع کی جگہ ذئب وغیرہ۔ قرآن اصلا قریش کی زبان میں اترا ہے، مگر بعض مقامات پر قریش کی زبان کو چھوڑ کر کسی دوسرے قبیلے کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر لا یلتکم من اعمالکم بنی عبس کی زبان ہے۔ (الاتقان) اس طرح قرآن نے الفاظ اور اسالیب کو نئی وسعتیں اور نیا حسن دے کر ایک اعلیٰ عربی ادب کا نمونہ قائم کر دیا۔ یہ نمونہ اتنا بلند تھا کہ اس کے بعد کوئی ادیب اس سے برتر معیار پیش نہ کر سکا۔ اس لئے عربی زبان ہمیشہ کے لئے قرآن کی زبان ہو کر رہ گئی ۔

عربوں میں جو امثال اور تعبیرات قدیم زمانہ سے رائج تھیں، ان کو قرآن نے زیادہ بہتر پیرایہ میں ادا کیا۔ مثلاً زندگی کی بے ثباتی کو قدیم عربی شاعر نے ان لفظوں میں نظم کیا تھا:

کل ابن انثی وان طالت سلامتہ یوما علی آلة حد باء محمول ہر آدمی خواہ وہ کتنے ہی عرصہ تک صحیح و سالم رہے ، ایک دن بہر حال وہ تابوت کے اوپر اٹھایا جائے گا۔ قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (آل عمران - ۱۸۵) قدیم عرب میں قتل و غارت گری سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ اس صورت حال نے چند فقرے پیدا کئے تھے جو اس زمانہ میں فصاحت کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کا علاج قتل ہے۔ اس تصور کو انھوں نے حسب ذیل مختلف الفاظ میں موزوں کیا تھا:

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page