اجتماعی انقلابات،
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۴
قَتْلُ الْبَعْضِ إِحْيَاءُ بِلْمُجْمَعِ بعض لوگوں کا قتل سب کی زندگی ہے أَكْثِرُوا الْقَتْلَ لِيَقِلَّ الْقَتْلُ قتل کی زیادتی کر دو تاکہ قتل کم ہو جائے۔
الْقَتْلُ أَنْفَى لِلْقَتْلِ قتل کو سب سے زیادہ روکنے والی چیز قتل ہے قرآن نے اس تصور کو ان لفظوں میں ادا کیا: وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَاب (بقره - ۱۷۹) قرآن سے پہلے عربی میں اور دنیا کی تمام زبانوں میں شعر کو بلند مقام حاصل تھا۔ لو گ شعر کے اسلوب میں اپنے خیالات کو ظاہر کرنا کمال سمجھتے تھے ۔ قرآن نے اس عام روش کو چھوڑ کر نثر کا اسلوب اختیار کیا۔ یہ واقعہ بجائے خود قرآن کے کلام الہی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیوں کہ ساتویں صدی کی دنیا میں صرف خدائے لَم يَزِل ہی اس بات کو جان سکتا تھا کہ انسانیت کے نام ابدی کتاب بھیجنے کے لئے اسے نثر کا اسلوب اختیار کرنا چاہئے نہ کہ شعور، جو مستقبل میں غیر اہم ہو جانے والا ہے۔ اسی طرح پہلے کسی بات کو مبالغہ کے ساتھ کہنا ادب کا کمال سمجھا جاتا تھا۔ قرآن نے تاریخ ادب میں پہلی بار واقعہ نگاری کو رواج دیا۔ پہلے جنگ اور عاشقی سب سے زیادہ مقبول مضامین تھے۔ قرآن نے اخلاق، قانون، سائنس، نفسیات، اقتصادیات، سیاسیات، تاریخ وغیرہ مضامین کو اپنے اندر شامل کیا۔ پہلے قصہ کہانی میں بات کہی جاتی تھی۔ قرآن نے براہ راست اسلوب کو اختیار کیا۔ پہلے قیاسی منطق کو ثبوت کے لئے کافی سمجھا جاتا تھا، قرآن نے علمی استدلال کی حقیقت سے دنیا کو باخبر کیا۔ ان سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ساری چیزیں قرآن میں اتنے بلند اسلوب کلام میں بیان ہوئیں کہ اس کے مثل کوئی کلام پیش کرنا انسان کے امکان سے باہر ہے۔ قدیم عرب میں یہ مقولہ تھا کہ ان اعذب الشعر اکذبہ (سب سے زیادہ میٹھا شعر وہ ہے جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو) مگر قرآن نے ایک نیا طرز بیان (رحمن - (۴) پیدا کیا جس میں فرضی مبالغوں کے بجائے واقعیت تھی، اس نے حقیقت پسند ادب کا نمونہ پیش کیا۔ قرآن عربی زبان و ادب کا حاکم بن گیا۔ ادب جاہلی کا جو سرمایہ آج محفوظ ہے، وہ سب قرآن کی زبان کو محفوظ رکھنے اور اس کو سمجھنے کے لئے جمع کیا گیا۔ اسی طرح صرف و نحو ، معانی بیان، لغت و تفسیر ، حدیث و فقہ، علم کلام ، سب قرآن کے معانی و مطالب کو حل کرنے اور اس کے اوامر و نواہی کی شرح کرنے کے لئے وجود میں آئے۔ حتیٰ کہ عربوں نے جب تاریخ و جغرافیہ اور دیگر علوم کو اپنایا تو وہ بھی قرآن کے احکام و ہدایت کو سمجھنے اور ان پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی ایک کوشش تھی ــــ قرآن کے سوا تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں کہ کسی ایک کتاب نے کسی قوم کو اتنا زیادہ متاثر کیا ہو۔
قرآن نے عربی زبان میں تصرف کرکے جو اعلیٰ تر ادب تیار کیا ، وہ اتنا ممتاز اور بدیہی ہے کہ کوئی بھی عربی جاننے والا شخص کسی بھی دوسری عربی کتاب کی زبان سے قرآن کی زبان کا تقابل کرکے ہر وقت اسے دیکھ سکتا ہے۔ قرآن کا شمار ادبِ عام انسانی ادب سے اتنا نمایاں طور پر فاتق ہے کہ کوئی عربی داں اس کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہاں ہم عرض کے لئے ایک واقعہ نقل کرتے ہیں جس سے اس فرق کا بخوبی اندازہ ہو سکے گا۔ طنطاوی، جوہری کہتے ہیں: ارجون ۱۹۳۲ کو میری ملاقات مصری ادیب استاذ کامل گیانی سے ہوئی۔ انہوں نے ایک عجیب واقعہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues