Al-Risala · March 1977 · page 15

اجتماعی انقلابات،

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۵

بیان کیا۔ انھوں نے کہا میں امریکی مستشرق فنکل کے ساتھ تھا۔ میرے اور ان کے درمیان ادبی رشتہ سے گہرے تعلقات تھے۔ ایک دن انھوں نے میرے کان میں چپکے سے کہا ”کیا تم بھی انھیں لوگوں میں ہو جو قرآن کو ایک معجزہ مانتے ہیں“ یہ کہہ کر وہ ایک معنی خیز ہنسی ہنسے جس کا مطلب یہ تھا کہ اس عقیدہ کی کوئی حقیقت نہیں۔ محض تقلیداً مسلمان اس کو مانتے چلے جارہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ انھوں نے ایسا تیر مارا ہے جس کا کوئی روک نہیں۔ ان کا یہ حال دیکھ کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ میں نے کہا: قرآن کی بلاغت کے بارے میں کوئی حکم لگانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم تجربہ کرکے دیکھ لیں کہ کیا ہم اس جیسا کلام مرتب کرسکتے ہیں۔ تجربہ کرکے خود بخود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ویسا کلام تیار کرنے پر قادر ہیں یا نہیں۔

اس کے بعد میں نے استاد فنکل سے کہا کہ آیئے ہم ایک قرآنی تصور کو عربی الفاظ میں مرتب کریں۔ وہ تصور یہ کہ "جہنم بہت وسیع ہے" انھوں نے اس رائے سے اتفاق کیا اور ہم دونوں قلم کاغذ لے کر بیٹھ گئے۔ ہم دونوں نے مل کر تقریبا بیس جملے عربی کے بنائے جس میں مذکورہ بالا مفہوم کو مختلف الفاظ میں ادا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وہ جملے یہ تھے:

ان جهنم واسعة جدا ان جهنم لا اوسع مما تظنون ان سعة جهتم لا يتصورها عقل الانسان ان جهنم لتسع الدنيا كلها ان الجن والانس اذا دخلوا جهنم لتسعهم ولا تضيق بهم كل وصف في سعة جهنم لا يصل الى تقريب شي من حقيقتها ان سعة جهنم لتصغر امامها سعة السماوات والارض كل ما خطر ببالك في سعة جهنم فانها الا رحب منه واوسع سترون من سعة جهنم مالم تكونوا لتجعلوا بها او تصوروه مهما حاولت ان تتخيل سعة جهنم فانت مقصور لن تصل الى شي من حقيقتها ان البلاغة المعجزة لتقصر وتعجز اشد العجز عن وصف سعة جهنم ان سعة جهنم قد تخطت احلام العالمين وتصور المتصورين متى امسكت بالقلم وقصدت لوصف سعة جهنم احسست بقصورك وعجزك ان سعة جهنم لا يصفها وصف ولا متخيلها وهم ولا تدور بحسبان كل وصف لسعة جهنم انما هو فضول و هذیان ہم دونوں جب اپنی کوشش مکمل کر چکے اور ہمارے پاس مزید عبارت کے لئے الفاظ نہ رہے تو میں نے

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page