ان الله يرفع بهذا القرآن اقواما ويضع به آخرين
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۶
پروفیسر فنکل کی طرف فاتحانہ نظروں سے دیکھا۔ "اب آپ پر قرآن کی بلاغت کھل جائے گی"۔ میں نے کہا "جب کہ ہم اپنی ساری کوشش صرف کر کے اس مفہوم کے لئے اپنی عبارتیں تیار کر چکے ہیں۔ پروفیسر فنکل نے کہا: کیا قرآن نے اس مفہوم کو ہم سے زیادہ بلیغ اسلوب میں ادا کیا ہے۔ میں نے کہا ہم قرآن کے مقابلے میں بچے ثابت ہوئے ہیں۔ انھوں نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا ، قرآن میں کیا ہے۔ میں نے سورہ ق کی یہ آیت پڑھی : يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَأْتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَّزِیدٍ ۔ یہ سن کر ان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ وہ اس بلاغت کو دیکھ کر حیران گئے، انھوں نے کہا: صدقت نعم صدقت د انا اقتر لك ذلك مغتبطا من كل قلبی ۔
آپ نے سچ کہا بالکل سچ ۔ میں کھلے دل سے اس کا اقرار کرتا ہوں ۔
میں نے کہا ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آپ نے حق کا اعتراف کر لیا۔ کیوں کہ آپ ادیب ہیں اور اسالیب کی اہمیت کا آپ کو پورا اندازہ ہے۔ یہ مستشرق انگریزی، جرمن، عبرانی اور عربی زبانوں سے بخوبی واقف تھا، لٹریچر کے مطالعہ میں اس نے اپنی عمر صرف کر دی تھی۔
الشیخ طنطاوی جوهری ، الجواهر فی تفسیر القرآن الكريم، مصراه ۱۳ ھ ، جز ۲۳، صفحات ۱۲ - ۱۱۱ نظریاتی طاقت بھی امکانی طور پر اعلیٰ ترین طاقت سے مسلح ہوں گے جب کہ قسم کی ظاہری طاقتیں ان سے چھن چکی ہوں گی، کیونکہ ان انجیل میں پیغمبر اسلام کے بارے میں جو پیشین گوئیاں کی طاقت کا راز ان کے دین کی نظریاتی صداقت میں ہے ۔ ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
اور یہ وہ چیز ہے جس کو ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔
یہ پیشین گوئی پیغمبر اسلام کی زندگی میں ہی مکمل و من فمہ يخرج سیف ماضی لکی یضرب به الامم شکل میں پوری ہو چکی ہے۔ آپ کی زبان پر اللہ نے اپنا قوموں کو مارنے کے لئے اس کے منہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے جو کلام جاری کیا، اس نے قدیم آباد دنیا کے تقریباً پورے علاقہ کو زیر و زبر کر ڈالا۔ کلام الہی کی یہ طاقت یوحنا عارف کا مکاشفہ 19:15 اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں کو جو دین دیا جائے گا آج بھی اپنا کرشمہ دکھا سکتی ہے ، بشرطیکہ پیغمبر اسلام اس کی طاقت لوہے کی تلوار نہیں ہو گی بلکہ الفاظ کی تلوار کے امتی اس کو لے کر اسی طرح اٹھیں جس طرح ان کے ہوگی۔ وہ نظریاتی طاقت سے قوموں کو زیر کرے گا۔ وہ اس پیش رو اس کو لے کر اٹھے تھے۔ قوت کے ذریعہ کام کرے گا جو زبان سے نکلتی ہے نہ کہ رہ قوت یہی حقیقت حدیث میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے: جو کانوں سے اور زمین کی تہوں سے برآمد ہوتی ہے۔
ان الله يرفع بهذا القرآن اقواما ويضع به آخرين
یہ ایک عظیم الشان پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کتاب کے ذریعہ کچھ لوگوں کو بلند کرے گا اور کچھ آخری رسول کے ذریعہ جو دین دیا گیا ہے ، اس کے حاملین کے لوگوں کو اس کے ذریعہ سے پست کرے گا۔ لئے کبھی نہ تیا یا بے وسیلہ ہونے کا سوال نہیں۔ وہ اس وقت
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues