Al-Risala · March 1977 · page 17

شرعی قانون کی حکمتیں

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۷

شرعی قانون کی حکمتیں

اسلامی قانون میں چور کے لئے یہ سزا رکھی گئی ہے کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تاکہ آئندہ لوگ اس کے شر سے محفوظ ہو جائیں اور اس کے انجام کو دیکھ کر دوسروں کو سبق حاصل ہو۔ (مائدہ۔ ۳۸) اس کے بارہ میں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک بے رحمانہ قانون ہے۔ کسی معاشرہ میں اس پر عمل کیا جائے تو وہاں بے شمار لوگ بے ہاتھ ہو جائیں گے اور پورا معاشرہ بے کار معاشرہ بن کر رہ جائے گا۔ مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ میڈیکل سائنس کا یہ نظریہ غلط ہے کہ کسی عضو میں سیپٹک ہو جائے تو اس کو فوراً کاٹ دینا چاہئے۔ میڈیکل سائنس کے اس نظریہ کے علی الرغم کے باوجود اگر تمام لوگ بغیر ہاتھ پاؤں کے نہیں ہو گئے ہیں تو چوری کے بارہ میں اسلامی قانون کی وجہ سے لوگ بے ہاتھ کیوں ہو جائیں گے۔

یہ کوئی فرضی بات نہیں ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب کہ اس قانون کو نافذ کیا گیا، دور نبوت سے لے کر خلافت راشدہ کے خاتمہ تک صرف چھ آدمیوں کے ہاتھ کاٹے گئے اور ساری مسلم سلطنت میں امن قائم ہو گیا۔ موجودہ زمانہ میں سعودی عرب میں یہ قانون نافذ ہے۔ مگر برسوں گزر جاتے ہیں اور ایک ہاتھ کاٹنے کی نوبت بھی نہیں آتی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ قانون اپنے اندر چوری کو روکنے کی خاصیت ( DETERRENT VALUE )

رکھتا ہے۔ قطع ید کے حکم کا مطلب ہاتھ کاٹنے سے زیادہ یہ ہے کہ لوگوں میں دہشت پیدا ہو جائے اور کوئی شخص چوری کرنے کی ہمت ہی نہ کرے۔ یہ فائدہ اسلام کے قانونی نظام میں پہلے بھی حاصل ہوا اور آج بھی حاصل ہو رہا ہے۔ معاشرہ کو بے کار کرنے کا اعتراض زیادہ صحیح طور پر موجودہ قوانین پر عائد ہوتا ہے ۔ ان قوانین میں چوری کی ہلکی سزا ہونے کی وجہ سے مجرموں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوتی ۔ نتیجہ یہ ہے کہ چوری کی وارداتیں بے حد بڑھ جاتی ہیں اور بے شمار لوگ چوری کے جرم میں پکڑ کر قید میں ڈال دیئے جاتے ہیں ۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کو عمل کے میدان سے ہٹا کر ان کو قوم کے اوپر بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔ جب کہ شریعت کے مطابق چند آدمیوں کا ہاتھ کاٹ کر ہمیشہ کے لئے امن کی فضا پیدا ہو جاتی ہے ۔ لوگ اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتے ہیں ۔ نتیجہ " سماج کے عمل میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ چند لوگوں کو سخت سزا دے کر سارے معاشرہ کو مستقل طور پر تحفظ کا احساس دے دیا جائے ۔ یہ اس کے بہتر ہے کہ چند لوگوں کی خاطر مستقل طور پر معاشرہ سے تحفظ کا احساس ختم کر دیا جائے۔

یورپ اور امریکہ کے حالات نے اس نظریہ کو غلط ثابت کیا ہے کہ مادی فراوانی سے چوری خود بخود ختم ہو جائے گی ۔ ترقی یافتہ ملکوں میں چوری کے واقعات غیر ترقی یافتہ ملکوں سے کم نہیں ہیں ۔ البتہ شکلیں مختلف ہیں ۔ پس ماندہ ملک کا ایک شخص دیہاتی چودھری کے مکان میں نقب لگاتا ہے ۔ زرا امریکہ میں وہ بنک کے اوپر ڈاکہ ڈالتا ہے۔ قطع ید کی سزا نہ صرف سماج کو امن کی ضمانت دیتی ہے بلکہ ایک چور کا ہاتھ کاٹنا بہت سے لوگوں کو اس انجام سے بچاتا ہے کہ ان کے ہاتھ پاؤں انتہائی بے رحمی کے ساتھ کاٹ ڈالے جائیں ۔ چور اور ڈاکو جب کسی کا مال لوٹنے آتے ہیں تو وہ صرف مال نہیں لوٹتے ، بلکہ صاحب مال پر بھی حملہ کرتے ہیں اور کبھی ان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ، کبھی ناکارہ بنا کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چور کے ہاتھ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page