پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۱۹
پیغمبر اسلام
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہم دو بڑے دوروں میں بانٹ سکتے ہیں۔ ایک نبوت سے پہلے۔ دوسرا نبوت ملنے کے بعد۔ آپ اپنی زندگی کے دونوں دوروں میں خدا کے کامل بندے اور اس کی طرف پوری طرح رجوع کرنے والے نظر آتے ہیں۔ نبوت سے پہلے آپ کی عبدیت سچی تلاشِ حق کی صورت میں ظاہر ہوئی اور نبوت کے بعد سچی اتباعِ حق کی صورت میں۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۲۲ اپریل ۵۷۱ء کو عرب میں پیدا ہوئے اور ۸ جون ۶۳۲ء کو آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نہایت تندرست اور طاقت ور تھے۔ بچپن سے یہ حال تھا کہ جو دیکھتا، کہہ اٹھتا : ان لهذ الغلام نشأنا۔ بڑے ہوئے تو آپ کی شخصیت اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ آپ کو دیکھنے والے آپ سے مرعوب ہوجاتے۔ اسی کے ساتھ اتنے نرم اور شیریں زبان تھے کہ تھوڑی دیر بھی جو شخص آپ کے قریب رہتا، آپ سے محبت کرنے لگتا۔ برداشت، سچائی، معاملہ فہمی، حسن سلوک آپ کے اندر کامل درجہ میں پایا جاتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ آپ اس انسانی بلندی کی اعلیٰ ترین مثال تھے جس کو نفسیات کی اصطلاح میں متوازن شخصیت (BALANCED PERSONALITY) کہا جاتا ہے۔ داؤد بن حصین کا بیان ہے کہ عرب کے لوگ عام طور پر یہ کہتے سنے جاتے تھے کہ محمد بن عبداللہ اس شان سے جوان ہوئے کہ آپ اپنی قوم میں سب سے زیادہ با اخلاق، پڑوسیوں کی خبرگیری کرنے والے، حلیم و بردبار، صادق وامين جھگڑے سے دور رہنے والے، بخش گوئی و دشمنام طرازی سے پرہیز کرنے والے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کا نام ” الامین“ رکھا تھا (خصائص کبری، جلد ا، صفحه ۹۱)
۲۵ سال کی عمر میں جب آپ نے شادی کی تو اس موقع پر آپ کے چچا ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھتے ہوئے کہا تھا: ان ابن اخی محمد، ابن عبد الله لا یوزن به رجل میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ کا مقابلہ جس شخص سے بھی کیا الا رجح به شرفا وفضلا وعقلاً، وهو والله جائے، وہ شرافت، نجابت، بزرگی اور عقل میں اس سے بعد هذا له نباءعظیم وخطر جلیل بڑھ جائے گا۔ خدا کی قسم اس کا مستقبل عظیم ہوگا، اور اس کا رتبہ بلند ہوگا۔
ابوطالب نے یہ الفاظ ان معنوں میں نہیں کہے تھے جن معنوں میں بعد کو تاریخ نے اسے سچا ثابت کیا۔ انھوں نے یہ بات تمام تر دنیوی معنوں میں کہی تھی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو شخص فطرت سے وہ پرکشش شخصیت لے کر پیدا ہوا ہو، جو محمد بن عبد اللہ میں نظر آتی ہے، وہ ہر حال قوم کے اندر معزز مقام حاصل کرتا ہے اور دنیا کے بازار میں اس کی بڑی قیمت مل کر رہتی ہے۔ ایسے شخص کی اعلیٰ صلاحیتیں اس کی ترقی اور کامیابی کی یقینی ضمانت ہیں۔
پیغمبر اسلام کے لئے یہ امکانات، بلاشبہ، پوری طرح موجود تھے۔ آپ اپنی صلاحیتوں کی بڑی سے بڑی دنیوی قیمت وصول کر سکتے تھے۔ آپ مکہ کے ایک اونچے خاندان میں پیدا ہوئے۔ اگر چہ آپ کو اپنے باپ سے وراثت میں صرف
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues