Al-Risala · March 1977 · page 20

پیغمبر اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۰

ایک اونٹنی اور ایک خادمہ ملی تھی مگر آپ کی شاندار پیدائشی خصوصیات نے مکہ کی سب سے امیر خاتون کو متاثر کیا۔ ۲۵ سال کی عمر میں ان سے آپ کا نکاح ہو گیا۔ یہ ایک تاجر خاندان کی بیوہ تھیں ۔ ان سے آپ کو نہ صرف مال اور جائداد ملی، بلکہ عرب میں اور عرب کے باہر تجارت کا زبردست میدان بھی ہاتھ آیا۔ اب آپ کے لئے ایک پرسکون اور کامیاب زندگی بنانے کے سارے مواقع فراہم ہو چکے تھے۔ مگر آپ نے ان کو چھوڑ کر ایک اور ہی چیز کا انتخاب کیا۔ آپ نے نہ پوچھتے اپنے کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا جو صرف دنیا کی بربادی کی طرف لے جاتی تھی۔ خدیجہ سے نکاح سے پہلے آپ اپنی گزر اوقات کے لئے کچھ معاشی کام کر لیتے تھے۔ اب وہ دہلی چھوٹ گیا، اب آپ ہمہ تن اس تلاش میں لگ گئے جس کی جستجو آپ کو بچپن سے تھی۔ یہ کہ سچائی کیا ہے۔ آپ گھنٹوں بیٹھے ہوئے زمین و آسمان پر غور کرتے رہتے۔ مکہ کے شرکاء میں اپنے تعلقات بڑھانے اور وہاں کی مجلسوں میں اپنی جگہ پیدا کرنے کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ صحراؤں اور پہاڑوں کو اپنا ہم نشین بنا لیا۔ مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ایک کھوہ ہے جس کا نام حراء ہے۔ آپ ستو اور پانی لے کر وہاں چلے جاتے ۔ پہاڑ کے سنسان ماحول میں زندگی کی حقیقت پر غور کرتے۔ زمین پر آسمان کے پیدا کرنے والے سے دعائیں مانگتے کہ میرے رب! تو اپنے آپ کو میرے اوپر ظاہر کر دے۔ سچائی کیا ہے مجھ کو بتا دے۔ جب پانی کی مشک خالی ہوجاتی اور ستو ختم ہو جاتے تو گھر واپس آتے تاکہ دوبارہ اسی طرح کھانے پینے کا سامان لے کر قدرت کے اس ماحول میں لوٹ جائیں جہاں صحرا اور درخت تھے ۔ پہاڑ اور آسمان کی پرسکون فضائیں تھیں۔ آپ کی بے چین طبیعت انسانی ہنگاموں میں اپنے سوال کا جواب نہ پاسکی تھی ۔ اب آپ نے قدرت کی خاموش دنیا کو اپنا ہم نشین بنایا تھا کہ شاید وہ اس کا کچھ جواب دے سکے۔ جوانی کی طاقتوں سے بھرپور، ایک شخص کے لئے اس قسم کی زندگی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ خوشی کے راستہ کو چھوڑ کر غم کے راستہ کو اپنانا تھا۔ بیوی بچوں کے ساتھ آرام کی زندگی گزارنا، تجارت کو ترقی دینا اور سوسائٹی میں اپنی جگہ بنانا، یہ تمام امکانات آپ کے لئے پوری طرح کھلے ہوئے تھے۔ مگر آپ کی بے تاب اور متلاشی طبیعت ان چیزوں پر راضی ہونے کے لئے تیار نہ تھی، تمام چیزیں اس وقت تک آپ کو پو بیچ معلوم ہوتی تھیں جب تک آپ زندگی کا راز معلوم نہ کر لیں۔ آپ جاننا چاہتے تھے کہ ان ظاہری چیزوں سے اوپر اگر کوئی حقیقت ہے تو وہ کیا ہے۔ نفع نقصان اور آرام و تکلیف کی اصطلاحوں میں سوچنے کے بجائے آپ اس سوال کو حل کرنے میں منہمک رہتے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔

یہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : وَ وَجَدَكَ ضَلَّا فَهَدَى (والضحی) ضال کے معنی ہیں راہ کھولا ہوا ، سرگردان (ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم مثل في شعاب مکہ و هو صغير ثم رجع) یہ لفظ اس مسافر کے لئے بولا جاتا ہے جو راستہ سے بھٹک گیا ہو اور حیران و پریشان مختلف راستوں کو دیکھ رہا ہو، اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کدھر جائے، اسی لئے اس درخت کو ضلہ کہتے ہیں جو صحرا میں اکیلا کھڑا ہو اور اس کے آس پاس کوئی دوسرا درخت نہ ہو۔ اسی سے کہا جاتا ہے ضل الماء في اللبن (پانی دودھ میں کھو گیا) آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ جاہلیت کے بیابان میں اکیلے درخت کی طرح کھڑے ہوئے تھے۔ صحراؤں اور پہاڑوں میں یہ غم لئے پھرتے تھے کہ سچائی کیا ہے جس کو میں اپناؤں۔ دنیا کے مردہ نقشوں میں اپنی جگہ بنانے کے بجائے حیران و متفکر ہو کر الگ تھلگ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page