پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۱
چاہتے تھے سچائی سے کتر کوئی چیز آپ کی روح کے لئے تسکین کا ذریعہ نہیں بن سکتی تھی، جنتی کہ آپ کی تلاش کی سرگردانی اس نوبت کو پہنچ گئی تھی کہ زندگی آپ کے لئے ایک ایسا بوجھ بن گئی جو آپ کی کر توڑتے دے رہی تھی۔ (الم نشرح) اس وقت اللہ کی رحمت آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔ آپ کے لئے ہدایت اور روشنی کے دروازے کھول دیئے گئے۔ ۱۲ فروری ۶۱۰ء کو جب کہ آپ حرا میں تنہا بیٹھے ہوئے تھے، خدا کا فرشتہ انسان کی صورت میں آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور خدا کی طرف سے آپ کو وہ کلمات سکھائے جو قرآن کی سورہ نمبر ۹۶ کی ابتدا میں درج ہیں۔ آپ کی تلاش نے بالآخر اپنا جواب پالیا۔
پیغمبر اسلام کی بے چین روح کا رب ذی الجلالین سے قائم ہو گیا۔ خدا نے آپ کو نہ صرف ہدایت دی بلکہ اپنے نمائندہ خاص کی حیثیت سے چن لیا۔ آپ کے اوپر خدا کا کلام اترنے لگا۔ آپ کی نبوت کی یہ مدت ۲۳ سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں خدا کی کتاب (قرآن) مکمل طور پر آپ کے اوپر اتاری گئی۔
پیغمبر اسلام نے اپنی مشکل زندگی کے چالیسویں سال میں سچائی دریافت کرلی۔ مگر یہ سچائی آپ کے لئے کوئی آسان سودانہ تھی۔ اس سچائی کا مطلب یہ تھا کہ آدمی ایک عظیم تر خدا کی زد میں ہے۔ یہ اپنے تکرار کے مقابلہ میں خدا کی کبریا کی دریافت تھی۔ یہ خدا کے اثبات کے مقابلہ میں اپنی نفی کا پتہ لگانا نا تھا۔ یہ اس راز کو معلوم کرنا تھا کہ اس دنیا میں بندہ مومن کی صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں، یہاں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔
سچائی کی دریافت کے بعد پیغمبر اسلام کے لئے زندگی کے معنی کیا تھے۔ اس کا اندازہ کرنے کے لئے یہاں پر صرف ایک حدیث نقل کی جاتی ہے ۔ آپ نے ایک بار فرمایا:
امرنی ربی بتسع خشية الله في السر والعلانية وكلمة العدل في الغضب والرضا والقصد في الفقر والغنا وان اصل من قطعني واعطى من حرمتی واعفو من ظلمنى وان يكون صمتى فكرا ونطقى ذكرا ونظری عبرة (رواه رزین)
یہ محض تقریر یا گفتگو کے الفاظ نہ تھے ۔ یہ خود آپ کی زندگی تھی جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی تھی۔ یہ حیرت انگیز حد تک مؤثر کلمات اور اس قدر سچی موٹی باتیں ایک خالی انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتیں ۔ یہ الفاظ تو خود بولنے والے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues