Al-Risala · March 1977 · page 22

پیغمبر اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۲

کا مقام بتا رہے ہیں ۔ وہ کہنے والے کے اندرون کو انڈیل رہے ہیں۔ وہ بولنے والے کی روح کو الفاظ کے آئینہ میں یہ نقاب کر رہے ہیں ۔

آپ کی زندگی اگر چہ نبوت ملنے سے پہلے بھی اسی قسم کی تھی مگر وہ تمام تر فطرت کے زور پر تھی۔ اب سچائی کی دریافت نے اس کو شعور کا ذریعہ دیا۔ جو کردار اب تک طبعی تقاضے کے تحت ظاہر ہونا تھا ، اب وہ ایک سوچے سمجھے ذہن کا ارادی جزو بن گیا۔ کسی بندہ خدا کا وہ مقام ہے جہاں دنیوی تقاضے انتہائی حد تک گھٹ کر صرف بقدرِ حق رہ جاتے ہیں۔ آدمی کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اس کا جسم اسی ظاہری دنیا میں ہوتا ہے مگر نفسیاتی اعتبار سے وہ ایک اور دنیا میں زندگی گزارتے لگتا ہے۔

ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا :

وعلى العاقل ما لم يكن مظلوبا عقلہ ان يكون له ساعا عقل مند شخص کے لئے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں ساعة يناجي فيها ربه اسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، وساعة يحاسب فيها نفسه اسی گھڑی جب کہ وہ اپنی ذات کا محاسبہ کرے، و ساعة يتفكر فيها فى صنع الله ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کر رہا ہو۔

و ساعة يخلو فيها لحاجته من المطعم والمشرب اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لئے وقت نکالے ۔

رواه ابن حبان في صحيحه والحاكم وقال صحيح الاسناد عن ابي ذر الغفاري )

گویا خدا کا وفادار بندہ وہ ہے جس کے روز و شب کے لمحات اس طرح گزریں کہ کبھی اس کی بے قراریاں اس کو خدا سے اتنا قریب کر دیں کہ وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ کبھی یوم الحساب میں کھڑے ہونے کا خوف اس پر اس طرح طاری ہو کہ وہ دنیا ہی میں اپنا حساب کرنے لگے۔ کبھی کائنات میں خدا کی کاری گری کو دیکھ کر وہ اس میں اتنا محو ہو کہ اس کے اندر اس کو خالق کے جلوے نظر آنے لگیں۔ اس طرح گویا خدا سے ملاقات، اپنے آپ سے ملاقات اور کائنات سے ملاقات میں اس کے لمحات گزر رہے ہوں۔ اور درجہ حاجت وہ کسی وقت کھانے پینے کے لئے بھی اپنے کو فارغ کر لیا کرے۔ یہ الفاظ دور کے کسی انسان کا تعارف نہیں ہیں۔ اس میں خود پیغمبر اسلام کی اپنی شخصیت بولی رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ظاہری جسم کے اندر جو مومنانہ روح تھی اس میں ہر وقت کس قسم کے طوفان اٹھتے رہتے تھے۔ آپ کی زندگی کس قسم کی ” ساعات “ کے درمیان گزر رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خود ان گھڑیوں کا تجربہ نہ کر رہا ہو، وہ کبھی اتنے اعلیٰ الفاظ میں اس بات کو بیان ہی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسی روح سے نکلے ہوئے کلمات ہیں جس نے ان کیفیات کو خود کمال درجہ میں پایا تھا جس کو وہ لفظوں کے ذریعہ دوسروں پر کھول رہا تھا۔

پیغمبر اسلام کو وہی خداوندی ملنے سے پہلے موجودہ دنیا اپنی کمیوں اور محدودیتوں کے ساتھ بے معنی معلوم ہوتی تھی۔ مگر جب آپ پر خدا نے اس حقیقت کو کھولا کہ اس دنیا کے سوا ایک اور دنیا ہے جو کامل اور ابدی ہے اور ہی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page