پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۳
انسان کی اصلی قیام گاہ ہے، نور زندگی اور کائنات دونوں آپ کے لئے با معنی ہو گئے ۔ اب آپ نے زندگی کی وہ سطح پالی جہاں آپ جی سکتے تھے، جس میں آپ اپنا دل لگا سکتے تھے ۔ اب آپ کو ایک ایسی حقیقی دنیا مل گئی جس سے اپنی امیدیں اور تمناؤں کو وابستہ کر سکیں جس کے پیش نظر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔
یہی مطلب ہے الدنیا مزرعة الآخرة (دنیا آخرت کی کھیتی ہے) کا۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو آج کل کی اصطلاح میں آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کہا جا سکتا ہے ۔ ایسا آدمی، اپنے تصور حیات کے لازمی نتیجہ کے طور پر، آخرت کو اپنا اصلی مسئلہ سمجھنے لگتا ہے ۔ وہ اس سے باخبر ہو جاتا ہے کہ دنیا ہماری منزل نہیں۔ وہ صرف راستہ ہے۔ وہ آخرت کے مستقبل کی تیاری کا ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ جس طرح ایک دنیا پرست آدمی کی تمام سرگرمیاں دنیوی مصالح کے گرد گھومتی ہیں، اسی طرح ایک بندہ خدا کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے ۔ ہر معاملہ میں اس کا رویہ اس فکر کے تحت بنتا ہے کہ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا نا کامی ، زبردستی کی حالت ہو یا زور آوری کی ، تعریف کی جا رہی ہو یا تنقید، غصہ کا موقع ہو یا محبت کا ، ہر حال میں آخرت کا خیال اس کا رہنما بنا رہتا ہے۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ آخرت کا فکر اس کے لاشعور کا جزو بن جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ بشریت سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر اس کا ذہن انھیں امور میں چلتا ہے جو آخرت سے تعلق رکھنے والے ہوں۔ جن باتوں میں آخرت کا کوئی پہلو نہ ہو ان سے اس کی دلچسپیاں اتنی کم ہو جاتی ہیں کہ بعض اوقات اس کو کہنا پڑتا ہے : انتم اعلم امور دنیا کم تم اپنے دنیا کے معاملات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو) اس حقیقت کی حیثیت محض ایک علمی دریافت کی نہیں۔ اس کو پانے کے بعد آدمی کی جینے کی سطح بدل جاتی ہے۔ آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے ۔ اس کی بہتر مثال خود پیغمبر اسلام کی ذات ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب تک جینے کی سطح نہ بدلے، عمل کی سطح نہیں بدل سکتی۔
پیغمبر اسلام نے جب یہ حقیقت پائی تو وہ ان کی پوری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ جن جنت کی خبر آپ دوسروں کو دے رہے تھے، اس کے آپ خود سب سے زیادہ حریص بن گئے اور جن جہنم سے دوسروں کو ڈرا رہے تھے، اس سے آپ خود سب سے زیادہ ڈرنے لگے ۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان بار بار دعا اور استغفار کی صورت میں آپ کی زبان سے ظاہر ہوتا رہتا تھا۔ آپ کی جینے کی سطح عام انسانوں سے کس طرح مختلف تھی اس کا اندازہ چند واقعات سے ہوگا۔ عن ام سلمة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان فی بیتہا ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے فدعٰی وصيفةً له اولہا فأبطأتُ فاستبانَ الغضب آپ نے خادم کو بلایا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرہ پر فی وجهہ فقامت ام سلمہ الى الحجاب فوجدت غصہ ظاہر ہو گیا۔ ام سلمہ نے پردہ کے پاس جا کر دیکھا تو خادم الوصيفة تلعب دمعه سواك فقال ولا خشية کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی ۔ القود يوم القيامة لَا وَجَعْتُ مَعَ بهذا السواك آپ نے خادم کو خنتا کرتے ہوئے فرمایا : اگر قیامت کے دن (الادب المفرد، باب قصاص العبد، صفحه (۲۹) مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues