پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۴
بدر کی جنگ (رمضان ۲ھ) کے بعد جو لوگ قیدی بن کر آئے، وہ آپ کے بدترین دشمن تھے۔ مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا جو آتش بیان خطیب تھا اور تمام مجمعوں میں آپ کے خلاف بیہودہ تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر فاروق نے رائے دی کہ اس کے نیچے کے دو دانت اکھاڑ دیے جائیں تاکہ آئندہ کے لیے اس کا تقریر کا جوش ختم ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا:
" خدا میرا چہرہ قیامت میں بگاڑ دے گا اگر چہ میں خدا کا رسول ہوں “ پیغمبر اسلام عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ خوشی کی بات سے آپ کو خوشی ہوتی تھی اور غم کی بات سے آپ غمگین ہوتے تھے۔ مگر آپ کی عبدیت آپ کو خدا کے مقرر کئے ہوئے دائرہ سے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی آخر عمر میں ماریہ قبطیہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا، یہ لڑکا خوبصورت اور تندرست تھا۔ اس کا نام آپ نے اپنے بزرگ بزرگ تریں جدا مجد کے نام پر ابراہیم رکھا۔ ابو رافع نے جب ابراہیم کی پیدائش کی خبر دی تو آپ اتنا خوش ہوئے کہ ابو رافع کو ایک غلام انعام میں دے دیا۔ آپ ابراہیم کو گود میں لے کر کھلاتے اور پیار کرتے۔ عرب قاعدہ کے مطابق ابراہیم کو ایک دایہ ام بردہ بنت المنذر بن زید انصاری کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ دودھ پلائیں۔ یہ دایہ ایک ایک لوہار کی بیوی تھیں۔ ان کے چھوٹے سے گھر میں اکثر بھٹی کا دھواں ہوتا رہتا۔ آپ لڑکے کو دیکھنے کے لئے اکثر لوہار کے گھر جاتے اور وہاں دھواں آپ کی آنکھ اور ناک میں گھستا رہتا اور آپ انتہائی نازک طبع ہونے کے باوجود اس کو برداشت کرتے۔ ابراہیم ابھی ڈیڑھ سال کے ہوئے تھے کہ ہجرت کے دسویں سال (جنوری ۶۳۲) ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ بیٹے کی موت کو دیکھ کر رونے لگے۔
ان واقعات میں پیغمبر اسلام ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان کے جذبات، ان کی حسرتیں ویسی ہی ہیں جیسی ایک عام باپ کی ہوتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود خدا کا دامن آپ کے ہاتھ سے چھوٹتے نہیں پاتا۔ آپ تم زدہ ہیں مگر زبان سے نکلی رہا ہے :
واللہ یا ابراہیم انا لایض لا محتزن ونون خدا کی قسم اے ابراہیم ہم تمھاری موت سے غمگین ہیں ، تبکی العین ریحزن القلب ولا نفتول آنکھ رو رہی ہے، دل دکھی ہے، مگر تم کوئی ایسی بات ما يسخط الرب نہ کہیں گے جو رب کو نا پسند ہو۔
جس دن ابراہیم کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم زمانہ میں اعتقاد تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے ہوا کرتے ہیں۔ اس کے اثر سے مدینہ کے مسلمان کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی کیوں کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کے خلاف تھی۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی، آپ نے فرمایا:
ان الشمس والقمر لا يخسفان لموت احد من الناس سورج چاند میں کسی انسان کی موت سے گہن نہیں لگتا۔ وہ اللہ کی وکشتهما آيتان من آيات الله، فاذا رأتموها فصلوا دو نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues