Al-Risala · March 1977 · page 35

پیغمبر اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

مدینہ میں باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ اس زمانہ میں آپ کو ایک بار ایک یہودی سے قرض لینے کی ضرورت پیش آئی جس کا نام زید بن سعنہ تھا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے جو مدت طے ہوئی تھی، ابھی اس میں چند دن باقی تھے کہ یہودی تقاضا کرنے کے لیے آ گیا۔ اس نے آپ کے کندھے کی چادر اتاری اور کرتا پکڑ کر سختی سے بولا: "میرا قرض ادا کرو۔ " پھر کہنے لگا: "عبدالمطلب کی اولاد بڑی ناد ہندب ہے" حضرت عمر فاروق رض اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہ یہودی کی بد تمیزی پر ان کو سخت غصہ آگیا۔ انھوں نے اس کو ڈانٹا۔ قریب تھا کہ اس کو مارنا شروع کر دیتے مگر پیغمبر اسلام صرف مسکراتے رہے۔ یہودی سے صرف اتنا کہا: ابھی تو وعدہ میں تین دن باقی ہیں (لقد بقیت من اجله ثلاث) پھر عمر فاروق رض سے فرمایا: انا دھو کنا الی غیر هذا امنك احوج یا عمر، تامونی عمر! میں اور یہ یہودی تم سے ایک اور برتاؤ کے زیادہ ضرورت مند تھے، مجھ سے تم بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور محسن القضاء و تامره بحسن التقاضی اور اس سے بہتر تقاضے کے لئے۔

(رناه البیهقی مفصلاً)

پھر عمر فاروق رض سے فرمایا کہ جاؤ فلاں شخص سے کھجوریں لے کر اس کا قرض ادا کر دو۔ اور میں صاع (تقریباً 30 کلو) زیادہ دینا، کیونکہ تم نے اسے جھڑکا تھا۔

پیغمبر اسلام کو اپنی زندگی میں اتنی کامیابی حاصل ہوئی کہ آپ عرب سے لے کر فلسطین تک کے علاقہ کے حکراں بن گئے۔ رسول اللہ ہونے کی وجہ سے آپ کی زبان قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ آپ ایسے لوگوں کے درمیان تھے جہاں آپ کی عقیدت و تعظیم اتنی زیادہ کرتے تھے جو کبھی کسی انسان کی نہیں کی گئی۔ حدیبیہ کی بات چیت کے موقع پر عروہ بن مسعود قریش کے سفیر کی حیثیت سے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب آپ وضو کرتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ کہ آپ کا غسالہ زمین پر گرنے سے پہلے ہاتھ پر لے لیں اور اس کو تبرک کے طور پر جسم پر ملیں۔ انس کہتے ہیں کہ انتہائی محبت کے باوجود ہم لوگ آنکھ بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ کسی صحابی کو آپ کی رہائش گاہ پر دستک دینے کی ضرورت ہوتی تو وہ ناخن سے دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر اورٹھ کر چاندنی رات میں سورہے تھے میں کبھی چاند کو دیکھتا، کبھی آپ کو۔ بالآخر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ آپ چاند سے زیادہ خوش نما ہیں (ف ذاهوا حسن عندی من القمر حنین میں جب جنگ کے شروع میں مسلم فوج کو شکست ہوئی اور مخالف فوج نے آپ کے اوپر تیروں کی بارش شروع کر دی تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا، وہ سارے تیر اپنے ہاتھ اور جسم پر اس طرح روکے رہے جیسے وہ انسان نہیں، لکڑی ہیں۔ حتی کہ بعض ساتھیوں کا یہ حال ہوا کہ ان کے جسم پر سیاہی کے کانٹے کی طرح تیر ٹکنے لگے تھے۔

اس قسم کا مرتبہ اور عقیدت آدمی کے مزاج کو بگاڑ دیتا ہے، خدانخواستہ وہ دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کے درمیان بالکل عام انسان کی طرح رہتے۔ کوئی تلخ تنقید یا اشتعال انگیز رویہ آپ کو آپ سے باہر کرنے والا ثابت نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت انس سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا جس

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page