Al-Risala · March 1977 · page 26

پیغمبر اسلام

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۶

کی وجہ سے آپ کی گردن میں نشان پڑ گیا۔ پھر بولا : ’’ محمد ! میرے یہ دو اونٹ ہیں۔ ان کی لاد کا سامان مجھے دو۔ کیونکہ جو مال تیرے پاس ہے، وہ نہ تیرا ہے، نہ تیرے باپ کا ہے۔ ‘‘ آپ نے فرمایا، مال تو اللہ کا ہے اور میں اس کا عبد ہوں۔ پھر دیہاتی سے پوچھا’’ جو برتاؤ تم نے مجھ سے کیا، اس پر تم ڈرتے نہیں‘‘ وہ بولا نہیں۔ آپ نے پوچھا کیوں۔ اس نے کہا ، مجھے معلوم ہے کہ تم برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے۔ آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور حکم دیا کہ دیہاتی کو ایک اونٹ کا بوجھ جو، اور ایک کی کھجوریں دی جائیں۔

آپ پر خدا کی ہیبت اتنی طاری رہتی کہ آپ بالکل عجز اور بندگی کی تصویر بنے رہتے تھے۔ بہت کم بولتے، چلتے تو جھک کر چلتے۔ تنقید کے کبھی خلاف نہ ہوتے۔ کپڑا پہنتے تو فرماتے کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور بندوں کی طرح لباس پہنتا ہوں انما انا عبد البس کما یلبس العبد) کھانا کھاتے تو ادب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے اور فرماتے کہ میں بندوں کی طرح کھانا کھاتا ہوں: ( انا اکل کما یا کل العبد)

اس معاملہ میں آپ کے نزاکت احساس کا عالم یہ تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار کہا : ما شاء الله وما شئت ( جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں) یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، آپ نے درشتی کے ساتھ فرمایا: اجعلتني الله بنداً (کیا تم نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا) تم کو اس طرح کہنا چاہئے: ما شاء الله وحدہ (وہ ہوگا جو اللہ چاہے) اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا :

من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے وہ راہ راست پر يحصمها فقد غوى ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہے ۔

آپ نے یہ سن کر فرمایا: بئس خطیب القوم انت (تو قوم کا برا خطیب ہے) آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول کو تثنیہ کی ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا جائے۔

پیغمبر اسلام کے یہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جو بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ چار صاحبزادیاں بڑی عمر کو پہنچیں۔ چاروں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں۔ حضرت فاطمہ آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ آپ حضرت فاطمہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ کسی سفر سے واپس لوٹتے تو مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضہ کے گھر جاتے۔ ان کے ہاتھ اور پیشانی کو چومتے ۔ حضرت عائشہ رضہ سے جبث بن غیر صحابی نے پوچھا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا۔ انھوں نے جواب دیا ” فاطمہ رضہ "

مگر پیغمبر اسلام کی پوری زندگی آخرت میں ڈھل گئی تھی۔ اس لئے اولاد سے محبت کا مفہوم بھی آپ کے یہاں دوسرا تھا۔ ایک روایت جو نسائی کے سوا دوسری تمام کتب صحاح میں نقل ہوئی ہے، یہ ہے کہ علی مرتضی رضہ نے ایک بار ابن عبدالواحد سے فرمایا۔ میں تجھ کو فاطمہ بنت رسول کی ایک بات سناؤں جو سارے کنبہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔ ابن عبدالواحد نے کہا، ہاں۔

حضرت علی رضہ نے کہا ۔ فاطمہ کا یہ حال تھا کہ چکی پیستیں تو ہاتھ میں چھالے پڑ جاتے ۔ پانی کی مشک اٹھانے کی وجہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page