پیغمبر اسلام
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۲۷
سے گردن میں نشان پڑ گیا تھا۔ جھاڑو دیتیں تو کپڑے میلے ہوجاتے ۔ انھیں دنوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ خادم آئے۔ میں نے فاطمہ سے کہا، تم اپنے والد کے پاس جاؤ اور اپنے لئے ایک خادم مانگو۔ فاطمہ نہ گئیں۔ مگر وہاں ہجوم تھا مل نہ سکیں۔ اگلے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر آئے اور پوچھا کہ کیا ضرورت تھی۔ فاطمہ چپ ہو گئیں۔ میں نے قصہ بتایا اور یہ بھی کہا کہ میں نے ان کو کہلا کر بھیجا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سننے کے بعد فرمایا: اتقی اللہ یا فاطمة وادئ فريضة ربك د اعمل اے فاطمہ خدا سے ڈرو۔ اپنے رب کے فرائض ادا کرو عمل اهلك، واذا اخذنت مضجعك فسبحی اپنے گھر والوں کا کام کرو۔ جب بستر پر جاؤ تو ۳۳ بار ثلثا وثلاثين واحمدي ثلثا وتلاثمين و خدا کی تسبیح کرو، ۳۳ بار خدا کی حمد کرو۔ ۳۴ بار خدا كبرى اربعا وثلاثين، فذلك مائة، هی کی تکبیر کرد ۔ یہ پورا سو ہو گیا۔ یہ تمھارے لئے خادم خیر لك من خادم سے بہتر ہے۔
حضرت فاطمہ رض نے یہ سن کر کہا، رضیت من الله وعن رسوله (میں خدا اور رسول سے اس پر خوش ہوں)، حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بس یہ جواب دیا اور فاطمہ کو خادم نہیں دیا۔ (ولم يخد منها) پیغمبر اسلام پر جو حقیقت کھولی گئی، وہ یہ تھی کہ یہ عالم بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک خدا ہے اور وہی اس کا خالق اور مالک ہے۔ سارے انسان اس کے بندے ہیں اور اسی کے سامنے بالآخر جواب دہ ہیں۔ مرنے کے بعد آدمی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ دوسری دنیا میں اپنی مستقل زندگی شروع کرنے کے لئے داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں نیک آدمیوں کے لئے جنت کا آرام ہے اور برے لوگوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔
خدا نے جب آپ کو اس حقیقت کا علم دیا تو یہ بھی حکم دیا کہ سارے انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ مکہ کے کنارے صفا نام کی ایک چٹان تھی جو اس زمانہ میں عوامی اجتماعات کے لئے قدرتی اسٹیج کا کام دیتی تھی۔ آپ نے صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا۔ جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے تقریر کی۔ آپ نے خدا کی عظمت و کبریائی بیان کرنے کے بعد کہا :
والله لتموتن كما تنامون ولتمعنون كما تستيقظون خدا کی قسم تم یقیناً مرو گے جس طرح تم سوتے ہو اور دوبارہ وإنها لجنسة ابداً او لنار ابداً زندہ ہوگئے جس طرح تم جاگتے ہو۔ اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ کے لئے آگ۔
زمانہ کے خلاف کسی طریقہ کو آدمی صرف ذاتی طور پر اختیار کرے، اس وقت بھی اگرچہ قدم قدم پر مشکلیں پیش آتی ہیں، تاہم یہ مشکلیں جارحانہ نوعیت کی نہیں ہوتیں۔ یہ مشکلیں آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ مگر وہ آدمی کے جسم کو زخمی نہیں کرتیں ۔ یہ زیادہ سے زیادہ آدمی کے خاموش صبر کا امتحان ہوتی ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال بالکل بدل جاتی ہے جب آدمی زمانہ کے خلاف ایک آواز کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے، جب وہ دوسروں سے کہنے لگے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ پیغمبر اسلام صرف ایک بندہ مومن نہ تھے بلکہ پیغام الہی کو دوسروں تک پہنچانے کا مشن بھی آپ کے سپرد کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues