Al-Risala · March 1977 · page 35

اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۵

اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ

نبیوں کی دعوت ایک تھی۔ مگر ان کی تاریخیں مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دعوت کیا ہو، اس کا تعلق صرف داعی سے ہے۔ جب کہ تاریخ کا تعلق داعی اور مدعو دونوں سے ہو جاتا ہے۔ تمام انبیار کو خدا کی طرف سے ایک ہی دین ملا اور وہ ایک ہی دعوت کو لے کر ہمیشہ اپنی مخاطب قوموں کے سامنے کھڑے ہوتے رہے۔ مگر عد واقوام کا رد عمل مختلف رہا، اس لئے ان کے تعلق سے جو تاریخ بنی، وہ یکساں نہیں ہو سکتی تھی ۔ حضرت ابراہیم کو اپنے وطن عراق میں ساتھی نہ ملے تو آنجناب اپنے بھتیجے اور اپنی اہلیہ کو لے کر غیر آباد جگہ چلے گئے کہ وہاں توحید کا ایک عبادت خانہ بنائیں۔ حضرت یوسف کی شخصیت اور تعبیر رویا ر سے مصر کا بادشاہ متاثر ہو گیا ۔ اس طرح آپ کو موقع ملا کہ اس کے اقتدار اعلیٰ کے تحت انتظام ملکی کا عہدہ سنبھال سکیں۔ حضرت موسیٰ کو مصر سے نکلنے کے بعد ایک پوری قوم ( بنی اسرائیل) کی سیادت حاصل ہوگئی ۔ چنانچہ آپ نے صحرائے سینا کی آزاد فضا میں قوانین الہی کی بنیاد پر ایک معاشرہ قائم کیا۔ حضرت مسیح نے دعوتی مرحلہ میں فلسطین کے رومی اقتدار سے کش مکش پیدا کرنا مصلحت کے خلاف سمجھا، اس لئے اپنے شاگردوں کو تلقین کی کہ ” جو خدا کا ہے وہ خدا کو دو، جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دو۔ “ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت بھی اسی دین کی طرف تھی جو دوسرے انبیاء لے کر آئے۔ مگر آپ کی قوم نے جہاں آپ کی شدید مخالفت کی، قوم کے اندر سے ہزاروں کی تعداد میں آپ کو اعلیٰ درجہ کے ساتھی بھی مل گئے آپ نے قوم کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف اپنے ساتھیوں کو منظم کیا۔ مقابلہ میں اللہ کی مدد سے آپ کو فتح حاصل ہوئی اور اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا۔

اسلامی غزوات میں دشمنان خدا کا قتل کیا جانا اسی طرح اسلامی تاریخ کا ایک اضافی جزو تھا جس طرح اس سے پہلے حضرت یحییٰ اور اصحاب الاخدود کا قتل ہو جانا۔ مگر بعد کے دور میں جب اسلام کی تاریخیں لکھی گئیں تو جنگ مقابلہ کا پہلو اس کے اوپر چھا گیا کیونکہ قديم ذوق کے مطابق اسلامی تحریک کے غیر سیاسی پہلو بہت کم قلم بند ہو سکے۔ البتہ قتال اور سیاسی معرکہ آرائیوں کے واقعات کو خوب نمایاں کر کے بیان کیا گیا۔ اس طرح اسلام کی مدون تاریخ عملاً مغازی اور فتوحات کی داستان بن کر رہ گئی ۔

اگر ایسا ہوتا کہ عرب کے سردار، حضرت یوسف کے ہم عصر مصری حکمراں کی طرح ، آغاز ہی میں اسلام سے متاثر ہو جاتے یا ملکہ سبا کی طرح رومی حکراں اسلام قبول کر لیتا تو اسلام کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تاریخ سے عقیدہ اخذ کرنا نیکیوں صحیح نہیں ہے۔ اس قسم کی کوشش کا نتیجہ یہ ہوگا کہ حضرت یوسف کو ملنے والے کہیں گے کہ پیغمبرانہ طریقہ کا یہ ہے کہ وقت کے حکراں سے صاف لفظوں میں مطالبہ کیا جائے کہ اجعل لی علی خزائن الارض

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page