Al-Risala · March 1977 · page 36

اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۶

زمین کے خزانے میرے حوالے کردو حضرت مسیح کو ماننے والے کہیں گے کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ حکومت وقت سے تعرض نہ کرتے ہوئے خدا کے حقوق ادا کئے جاتے رہیں۔ حضرت ابراہیم سے اسوہ لینے والوں کو اصل کام یہ نظر آئے گا کہ جب لوگ دعوت حق کو نہ مانیں تو داعی کو چاہئے کہ وہ بستی کو چھوڑ کر دور کسی صحرا میں چلا جائے اور وہاں خدا کا گھر بنا کر عبادت کرے ۔ نبی آخر الزماں کو ماننے والے کہیں گے کہ بدر و احد اور حنین و احزاب کے معرکہ گرم کرنے کا نام اسلام ہے۔ قرآن میں ہے کہ تمام پیغمبروں کو اللہ نے ہدایت دی (انعام ۔ ۴۷) تو تم انھیں کے راستہ پر چلو (انعام ۔ ۹۰) اب اگر تاریخ سے عقیدہ اخذ کیا جائے تو وہ کون سا واحد راستہ ہوگا جس پر چلنا تمام نبیوں کے راستہ پر چلنے کے ہم معنی ہو۔ خدا کا دین، عقیدہ بھی ہے اور تاریخ بھی۔ مگر ہم عقیدہ کو عقیدہ سے سمجھ سکتے ہیں اس کو تاریخ سے اخذ نہیں کر سکتے ۔

قرآن کی مکی سورتوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی دس سالہ زندگی سے ثابت ہے کہ مکہ میں اسلام کی دعوت بالکل غیر سیاسی انداز میں شروع ہوئی تھی۔ توحید ، آخرت اور مواسات بنی آدم کی طرف آپ لوگوں کو متوجہ کرتے اور ایک خدا کی عبادت کی طرف بلاتے۔ آپ نے یا آپ کے ساتھیوں نے کبھی کسی کے خلاف تشدد کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ کسی قسم کی سیاسی منازعت کی۔ اس کے باوجود مکہ کے سردار بالکل ایک طرفہ طور پر آپ کے خلاف ہو گئے۔ انھوں نے آپ پر اور مسلمانوں پر ہر قسم کے ظلم ڈھانا شروع کئے، سب وشتم سے لے کر سماجی اور معاشی بائیکاٹ تک ہر چیز کو آپ ایک طرفہ طور پر برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے طے کیا کہ سب مل کر آپ کو قتل کر ڈالیں۔ اس وقت آپ مکہ سے ہجرت کرکے عرب کے دوسرے شہر یثرب چلے گئے ۔

سرداران عرب نے اب بھی آپ کو نہ چھوڑا۔ وہ فوج لے کر آئے تاکہ اسلام کے مرکز کو تباہ کردلیں۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر نکلے۔ یہ جنگ آپ کی طرف سے تمام تر دفاعی تھی (بقرہ۔ ۱۹۰) بدر کے مقام پر دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا۔ خدا کی مدد آپ کے شامل حال رہی اور سرداران عرب کو زبردست شکست ہوئی ۔ اس شکست نے ان کو اور زیادہ مشتعل کر دیا۔ اب محاذ جنگ اور وسیع ہو گیا، مکہ کے قریش اور مدینہ اور خیبر کے یہود اسلام کو مٹانے کے لئے متحد ہوگئے۔ اس کے نتیجہ میں احد (۳ھ) سے لے کر حنین (۸ھ) تک مسلسل جھڑپوں اور لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر مسلمانوں کو فتح ہوئی اور مشرکین اور یہود دونوں کا زور ٹوٹ گیا۔ عرب کے مشرکین اور یہود نے مل کر اسلام کو فنا کرنے کے لئے جو جارحانہ اقدام کیا تھا، اس میں انھیں مکمل ناکامی ہوئی، تاہم ان کے بچے کچھے افراد نے اب ایک اور منصوبہ بنایا۔ انھوں نے یہ کوشش شروع کی کہ بیرونی حکومتوں (ایران و روم) کو اسلام کے خلاف ابھارا جائے اور ان کے ذریعہ اس کو کچلنے کی کوشش کی جائے۔ یہ حکومتیں پہلے ہی سے عرب میں ایک نئی طاقت کے ابھرنے کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی تھیں ۔ اب خود عربوں کے ایک طبقہ کی حمایت ملی تو وہ اور زیادہ جری ہوگئیں۔ تاہم یہ واقعہ اسلام کے حق میں ایک عظیم تائید غیبی ثابت ہوا، کیونکہ اس وقت کی آباد دنیا پر حاکم آکھیں دونوں سلطنتوں کا غلبہ قائم تھا۔ ان کی طرف سے قتال کے آغاز نے مسلمانوں کو موقع دے دیا کہ وہ افغانستان

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page