Al-Risala · March 1977 · page 37

اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۷

سے لے کر اسپین تک فتح کرتے چلے جائیں بغیر اس کے ان پر جارحیت کا الزام عائد ہوتا ہو۔ عرب کے پڑوس میں اس زمانہ کی دو سب سے بڑی سلطنتیں قائم تھیں۔ یورپ میں خلیج فارس کے دوسری طرف ساسانی سلطنت تھی جس کے قبضہ میں موجودہ ایران کے علاوہ اطراف کے ملکوں (پاکستان، افغانستان، ترکی، عراق) کے حصے بھی شامل تھے۔ پچھم کی طرف بحر احمر کے دوسری جانب رومی سلطنت تھی جو شام و فلسطین سے شروع ہو کر بحر روم کے کنارے کنارے افریقہ کے تمام شمالی ملکوں پر قابض تھی۔ اس کے آگے اس کی سرحدیں یورپ میں بہت دور تک چلی گئی تھیں۔

ان دو شہنشاہیتوں نے قلب عرب کے خشک بیابان کو چھوڑ کر اس کے سرحدی علاقوں میں چاروں طرف اپنی ماتحت عرب ریاستیں قائم کر رکھی تھیں۔ اپنے زیر اثر علاقوں میں انھوں نے اپنے مذہب کو بھی پھیلایا تھا، عرب کو اپنی سلطنت کا براہ راست حصہ نہ بنا کر بھی وہ اس کو اپنا ماتحت سمجھتے تھے۔ ابوطالب کی وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے موسمی بازاروں میں گئے اور مختلف قبائل کے سامنے اپنے کو پیش کیا کہ مجھ کو اپنی حمایت میں لے لو تاکہ میں خدا کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکوں۔ اس سلسلہ میں ایک سرحدی قبیلہ بنو شیبان کے سرداروں سے آپ کی گفتگو تاریخ میں نقل ہوئی ہے، گفتگو کا ایک حصہ یہ تھا: قال المثنی بن حارثہ : انما نزلنا بین صیرین ، احد هما الیمامة والاخری البسامة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم وما هذان الصیران زیاده پر یہ بات سردار قبیلہ نے بچی مثنی بن حارثہ نے کہا ، ہمارا قیام دوسرے حدوں کے درمیان ہے۔ ایک یمامہ دوسرے سمامہ ۔ آپ نے پوچھا یہ دوسرے حدیں کہاں ہیں۔ سردار قبیلہ نے کہا، ایک طرف فقال له: اما احدهما تطوف البروارض العرب، واما الآخر فارض فارس وانها لكسرى، وانما نزلنا على عهد اخذن علينا كسرى، ان لا نحدث حدثا، ولا نوءوى محدثا۔ ولعل هذا الأمر الذي تدعوا اليه تكرهه الملوك۔ فاما ما كان يلى بلاد العرب فذنب صاحبه مغفور وعذره مقبول۔

واما ما كان مما يلى بلاد فارس فذنب صاحبه غير مغفور، وعذره غير مقبول۔ فان اردت ان تنصر مما يلى العرب فعلنا۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اسأتم الرد اذا فصعتم بالصدق (البداية والنهاية)

عرب کی زمین اور اس کی پہاڑیاں ہیں۔ دوسری طرف ایران کی زمین اور اس کی ندیاں ہیں اور ہم وہاں ایک معاہدہ کے تحت مقیم ہیں جو کسریٰ نے ہم سے لیا ہے۔ نہ یہ کہ ہم کوئی نئی بات نہ کریں گے اور نہ کسی نئی بات کرنے والے کو پناہ دیں گے۔ اور یہ بات جس کی طرف آپ بلاتے ہیں، شاید بادشاہوں کو ناگوار ہو۔ بلادِ عرب کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ خطا کار کو معاف کر دیتے ہیں اور عذر کو قبول کر لیتے ہیں۔ مگر بلادِ فارس میں خطا کار کی معافی نہیں ہوتی اور اس کا عذر قبول نہیں کیا جاتا۔ پس اگر آپ عرب علاقہ میں ہماری امداد چاہیں تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ آپ نے فرمایا، تم نے جواب دینے میں کوئی برائی نہیں کی اگر تم سچے ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page