اسلامی تاریخ: ایک مطالعہ
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۳۸
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرونی سلطنتوں نے کس طرح عرب کو اپنے سیاسی مفادات کے تابع بنارکھا تھا۔ نبوت کے پانچویں سال جب اہل مکہ کے مظالم سے تنگ آکر کچھ مسلمان حبش چلے گئے تو قریش کا ایک وفد وہاں پہنچا تھا اور حبش کے بادشاہ اصحمہ نجاشی کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اس میں وہ ناکام رہے۔ اب انھوں نے ایران و روم کی شہنشاہیتوں کا رخ کیا۔ یہود اور مشرکین کے وفد رومي حکمرانوں اور ایرانی بادشاہوں سے ملے اور ان کو اسلام کے سیاسی خطرات سے آگاہ کیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایک طرف باہر سے کوئی حکومت اسلام کے مرکز (مدینہ) پر حملہ کرے، دوسری طرف عرب قبائل میں اندر سے بغاوت پیدا کردی جائے۔ اس طرح مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیا جائے۔ ایران و روم قدیم زمانہ کی سب سے بڑی سلطنتیں تھیں۔ ان کو قدیم آباد دنیا کا تقریباً تمام حصہ پر سیادت حاصل تھی ، اس لئے انھیں اپنی طاقت کا گھمنڈ تھا۔ وہ آسانی سے عرب کی اس نئی ابھرتی ہوئی قوت کو کچلنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف کے بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کئے۔ ان خطوط کا اصل مقصد اسلام کی دعوت کو وقت کے حکمرانوں تک پہنچانا تھا۔ تاہم اس کا ایک متوقع فائدہ یہ بھی تھا کہ یہ حکمران اسلام کو اس کی اصل حیثیت میں سمجھ سکیں اور غلط پر وپیگنڈہ کی وجہ سے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ نیز یہ بھی توقع تھی کہ اگر حکمرانوں میں سے کچھ لوگ اسلام کی دعوت فطرت سے متاثر ہوگئے تو یہودیوں اور مشرکین کی سازشیں خود بخود کم زور پڑ جائیں گی۔ یکٹو بات کی عدوانی کے بعد یہ توقع جزوی طور پر پوری بھی ہوئی۔ بعض حکمرانوں (مثلاً عمان کے جلندی برادران) مسلمان ہو گئے۔ بعض (مثلاً مقوقس حاکم مصر) اسلام کے ہمدرد بن گئے۔
مگر دونوں بڑی سلطنتوں (ایران و روم) نے اس سے مختلف معاملہ کیا۔ اس کا پہلا شدید مظاہرہ اس وقت ہوا جب کہ عبداللہ بن حذافہ سہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب لے کر ساسانی حکمران خسرو پرویز کے دربار میں پہنچے۔ یہ خط بالکل سادہ مضمون پر مشتمل تھا۔ اس میں کوئی سیاسی بات نہ تھی۔ پورا خط صرف یہ تھا :
" محمد رسول اللہ کی طرف سے کسریٰ شاہ فارس کے نام۔ سلام اس شخص پر جو ہدایت قبول کرے اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے۔ میں تجھ کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہوں۔ میں تمام انسانوں کی طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں تا کہ اللہ کے عذاب سے ڈراؤں۔ اور جو لوگ انکار کریں ، ان کے لئے عذر باقی نہ رہے۔ اسلام قبول کرو، تمھارے لئے سلامتی ہوگی ۔ اور اگر انکار کرو گے تو اپنی قوم مجوس کے انکار کا وب ال بھی تمھارے اوپر ہوگا"
اس خط کو کسریٰ نے اپنی شان کے خلاف سمجھا اور غصہ میں بولا : میرا غلام ہو کر مجھ کو خطاب کرتا ہے (یکتب الی دھوبدی) اس نے آپ کے مکتوب کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ یہی نہیں۔ بلکہ بین الاقوامی روایات کے تمام اصولوں کو توڑتے ہوئے آپ کے قاصد کو قتل کر ڈالا۔ اس وقت مین اس کے ماتحت تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے یمنی گورنر بازان کو لکھا کہ محمد کے پاس دو آدمی بھیجوان کو گرفتار کر کے لائیں اور میرے دربار میں حاضر کریں۔ اس حکم کی تعمیل میں بازان نے اپنے دو سپاہی مدینہ روانہ کئے جو نا کام واپس گئے۔ اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایرانی حکمران کتنے متکبر تھے اور عربوں اور مسلمانوں کو کتنا حقیر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues