جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۴
چھوٹی صنعتیں عظیم امکانات ہندوستان ایک عظیم ملک ہے۔ یہاں مقامی طور پر چھوٹی چھوٹی صنعتوں کے بے حد امکانات ہیں، اگر چہ انھیں ابھی تک بہت کم استعمال کیا گیا ہے۔ ہندوستان کے رقبہ کا تقریباً ۲۵ فی صد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے ان جنگلات میں بے شمار قسم کی چھوٹی چھوٹی صنعتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔
مثلاً شہد کی مکھی پالنے کی صنعت کو لیجیے۔ جنوبی کنٹڑا کے شری گوڈانے اس کام کے امکانی فائدے بتائے ہیں۔ انھوں نے مقامی طور پر میسر ہونے والی لکڑی اور بانسوں سے شہد کی مکھیوں کے چھتے بنائے اور پھر انھوں نے ایک سیزن کے پانچ ماہ میں ان چھتوں سے ۳۰ کلوگرام شہد نکالا جس کی مجموعی مالیت دو ہزار چار سو روپے تھی۔ ملک کے اندر اور ملک سے باہر شہد کی بڑی مانگ ہے اور دیہاتی علاقوں میں اس کام کی ترقی کے وسیع موقع موجود ہیں۔ بانس کی کھچیوں سے بورئیے اور ٹوکریاں بنانے کی صنعت بھی ایسے ہی دھندوں میں سے ایک ہے۔ جسے ترقی دینے کے لیے اس کی ایلی مارکٹینگ تنظیم قائم ہونی چاہیئے۔ اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا اظہار بانس کے بورئیے بنانے والے ایک کارخانے کو دیکھئے سے ہوتا ہے۔ جو کیرل کے کھادی اینڈ ولیج انڈسٹری بورڈ کے ماتحت ضلع کنانور کے ارما گاؤں میں واقع ہے اور کو آپریٹیو سوسائٹی کے زیرِ انتظام ہے۔ اس کارخانے نے "ریڈ بیکس" نام کی ایک چیز تیار کی ہے جو بانس کی نلی کو کیمیائی عمل کے ذریعے ٹائلز کا سستا نعم البدل بناتا ہے ۔ بانس ایک ایسا خام مواد ہے جو گھروں کے کچواڑے میں بھی بڑی آسانی سے اگایا جا سکتا ہے درختوں کے گوند اور ان سے نکلنے والی رال کے ذریعے ۱۹۷۵ء - ۱۹۷۶ء کے دوران ملک کو ۳۲ کروڑ روپے کی بدیشی کرنسی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ دونوں چیزیں سماج کے پسماندہ طبقوں کے بہت سے بیروزگار اور نیم بیروزگار افراد کے لیے کام کا ذریعہ ثابت ہوئیں ۔ سال کے بیچ جنگلات کی ایک ایسی شے تھے ہیں جن سے دیہاتی معیشت کو فروغ دینے کے زبردست امکانات پائے جاتے ہیں ۔ سال بڑی تیزی سے کھیلتا پھولتا ہے اور یہ مجموعی طور پر ۹ لاکھ سکیٹر رقبہ زمین پر موجود ہے جس میں سے بیشتر مدھیہ پردیش، بہار اور اڈڑیسہ کے قبائلی علاقوں میں پایا جاتا ہے ۔ سال درخت کے گودے میں ۱۶ فی صد سخت قسم کی چکنائی ہوتی جو صابن بنانے میں کام آتی ہے ۔ اسے صاف کر لیا جائے تو اس سے ایک قسم کا مکھن تیار ہو جاتا ہے ۔ اس گودے کا تیل نکال لیا جائے تو اس کے کھوک میں ۲۱ فیصد نشاستہ اور ۱۰ فی صد پروٹین ہوتا ہے ۔ ہر سال لاکھوں ٹن سال کے بیج پیدا ہوتے ہیں ۔ اس وقت مشکل سے ایک فیصد بیج کی فصل اٹھائی جاتی ہے ۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ ایک ٹن سال کے بیج کو اکٹھا کرنے اور اسے مطلوبہ مقامات پر پہنچانے کے لیے ۸ کام کے دن چاہئیں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سال کے بیج سے کتنا بڑا معاشی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ٹینڈر کے پتوں کی پیداوار اور تجارت سے قبائلی معیشت کا بڑا گہرا تعلق ہے ۔ اسے عام طور سے بیٹری
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues