جب تاریخ کا رخ موڑ دیا گیا
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۵
پتہ کہا جاتا ہے۔ ان پتوں کو چھانٹنا، توڑنا اور ان کی ٹبری بنانا بڑی محنت کے کام ہیں۔ اس دھندے سے صرف مدھیہ پردیش میں ڈھائی لاکھ افراد معقول آمدنی حاصل کرتے ہیں اور ۱۹۷۵ء میں صرف مدھیہ پردیش کے دیہاتی علاقوں میں اس کام کے مزدوروں کو چار کروڑ روپیہ تقسیم کیا گیا۔ اس دھندہ کو مزید وسعت دینے کی کافی گنجائش موجود ہے۔
ٹینڈو کے پتے اس کے بیج ہو کر بڑی آسانی سے پیدا کئے جاسکتے ہیں اور کُپڑا نہیں جانور مشکل سے چگ سکتے ہیں۔ ان میں آگ لگنے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے ان کے پودوں کی دیکھ بھال اور انہیں پروان چڑھانے میں بھی زیادہ دشواری نہیں ہوتی۔ اس طرح دیہات کے آس پاس افتادہ زمین میں ٹینڈو کے پتوں کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے دیہاتی معیشت پر اس کا کتنا خوش گوار اثر ہوگا اس کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ بات مشاہدہ میں آئی کہ ترقی پذیر ممالک بھاری بنیادی صنعتوں کی نسبت چھوٹی صنعتوں میں زیادہ خوش حال اور کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملک میں ان چھوٹی صنعتوں سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مثلاً ان سے ضرورت مندوں کو مناسب وقت اور مقام پر مناسب روزگار ملتا ہے اور اس کے لیے زیادہ سرمایہ بھی نہیں لگانا پڑتا۔
اس کے علاوہ جنگلات سے کئی بڑی بڑی صنعتوں کو خام مواد ملتا ہے جیسے کاغذ بنانے کے لیے گودا۔ پلائی وڈ۔ وعلینہ۔ ریلوے لائن کو جنگلات میں پیدا ہوئی لکڑی سے ہی سلیپر ملتے ہیں اور وہ لکڑی فراہم ہوتی ہے جو ریل گاڑی کے ڈبے بنانے میں کام آتی ہے۔ جنگلات سے ہی وہ پیکنگ سامان حاصل ہوتا ہے جو کھیلوں اور دوسری گھریلو اشیا کی پیکنگ میں کام آتا ہے۔ خوشبوسازی کی صنعت ، وارنش کی صنعت ، کپڑے کی صنعت ، اور کئی دوسری چھوٹی اور بڑی صنعتیں ان اشیاء سے فائدہ اٹھاتی ہیں، جو جنگلات میں پیدا ہوتی ہیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کیجئے آپ کو دوسروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی پتھر ہر ایک کے لئے سخت ہے۔ البتہ وہ اس کے لئے نرم ہو جاتا ہے جس نے اس کو توڑنے کا اوزار فراہم کر لیا ہو۔ یہی صورت ہر معاملہ میں پیش آتی ہے۔ اگر آپ لیاقت اور اہلیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں داخل ہوں تو ہر جگہ آپ اپنا حق وصول کر کے رہیں گے۔ اور اگر لیاقت اور اہلیت کے بغیر آپ نے زندگی کے میدان میں قدم رکھا ہے تو آپ کے لئے اس دنیا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اپنی مفروضہ حق تلفی کے خلاف فریاد و فغاں کرتے رہیں۔
ماحول سے کوئی امید نہ رکھیئے ، بلکہ اپنی محنت اور لیاقت پر بھروسہ کیجئے۔ آپ کو ماحول سے بھی شکایت نہ ہوگی۔ ماحول کی شکایت دراصل ماحول سے زیادہ خود اپنی نالائقی کا اظہار ہے۔ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے وہ ناگزیر تیاری نہیں کی تھی جو ماحول سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے ضروری ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues