نجات
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۶
نجات
قرآن جس زمانہ میں آیا، ساری دنیا میں کوئی نہ کوئی مذہب رائج تھا۔ کوئی قوم ایسی نہ تھی جو مذہب کی قائل نہ ہو۔ مگر ہر ایک نے خود ساختہ طور پر کچھ چیزوں کو مذہب اور خدا پرستی کا درجہ دے رکھا تھا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک ایک مقدس جگہ پر جمع ہو کر تالیاں اور سٹیاں بجانے کا نام عبادت تھا (انفال - ۳۵) کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ عبادت خانوں کی عمارتیں بنا کر اور لوگوں کو کھانا کھلا کر اپنے خدا کو خوش کر لیں گے (توبہ - ۱۹) کچھ لوگ خدا پرستی کا مطلب یہ سمجھتے تھے کہ انسانی ہنگاموں سے الگ ہو کر اپنے لئے تنہائی کا ایک گوشہ بنا لیا جائے اور وہاں بیٹھ کر خدا کے نام کی چپ کی جاتی رہے (حدید۔ ۲۷) کچھ اور لوگ تھے جو خدا پرستی کا کمال یہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں جن افکار و نظریات کا رواج ہو جائے اسی کے رنگ میں رنگ کر مذہب کو بھی پیش کر دیا جائے (توبہ۔ ۳۰) قرآن نے اعلان کیا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز وہ نہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہو، اور جس کے کرنے والے کو وہ آخرت کے انعامات سے سرفراز کرے۔ اللہ کو اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اس کے بندے اپنے خالق کو ”کبیر“ مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو ”صغیر“ بنالیں۔
یہ اصلاً ایک قلبی کیفیت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے بندوں کے دل کو دیکھتا ہے۔ دل کا جھکاؤ، دل کا خوف، دل کی فروتنی ہی وہ چیز ہے جو اصلا خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ اس کے دل میں جو کیفیت ہو، وہ ضرور اس کے جسم اور اس کی عملی سرگرمیوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم کو اپنے بیٹے سے پیار ہو تو ہمارے عمل سے بھی اس پیار کا اظہار ہوگا۔ اگر ہم سانپ سے ڈر رہے ہوں تو ہماری حرکات بھی ضرور اس جذبہ کی گواہی دیں گی۔ اسی طرح خدا کے آگے اپنے آپ کو دصغیر“ بنانا اگرچہ باعتبار حقیقت ایک قلبی کیفیت ہے، مگر جب وہ کسی دل کے اندر حقیقی معنوں میں پیدا ہو جائے تو اس کے اعضا و جوارح اور اس کے حرکات و اعمال سے بھی لازما اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اس طرح پوری زندگی اس کے دائرہ میں آ جاتی ہے۔
حقیقی خدا پرستی، جو آدمی کے لئے آخرت کی نجات کا ذریعہ ہوگی، یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کو پورے معنوں میں خالق، مالک، رب اور محاسب و مجازی تسلیم کرے، اس کے ساتھ کسی معاملہ میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ پھر دل و دماغ میں اسی کی بڑائی کے احساس کو جگہ دے۔ اس کا اندرونی وجود اس کی احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہو اور اسی کی طاقت و قوت کے خوف سے کانپتا رہے۔ پھر اس کا ہاتھ، اس کا پاؤں، اس کی آنکھ، اس کی زبان، اور اس کے سارے اعضا و جوارح اسی دائرہ کے اندر اپنے وظائف ادا کریں جو خدا نے اپنی شریعت میں ان کے لئے مقرر کر دیا ہے۔ پھر دوسرے انسانوں سے تعلقات اور دنیا کے مختلف معاملات میں وہ اسی رویہ کو اپنائے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور اس رویہ سے پوری طرح بچتا رہے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔ دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو دنیا کے پیچھے اپنی پوری زندگی لگادے۔ اسی طرح آخرت کی نجات کا حق دار بھی وہی ہوگا جس نے اپنی زندگی کو اس کے لئے کھپایا ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues