Al-Risala · March 1977 · page 47

نجات

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۷

مذہب کو انسانی تخلیق ثابت کرنے کے تمام نظر یات غلط ثابت ہو گئے یونانی مصنف ایو میرس (Euhemerus) نے کہا تھا کہ دیوتا ابتداء زمین کے بڑے بڑے بادشاہ تھے پھر دھیرے دھیرے وہ خدا بن گئے اور ان کی پرستش کی جانے لگی۔ بعد کو اس عقیدہ کو بتانے کے لئے ایک اصطلاح اس کے نام پر وضع ہوئی جس کو ایومیرزم (EUHEMERISM) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیوتا کسی زمانہ میں انسانی ہیرو تھے۔ یونانی مصنف کا یہ نظریہ محض قیاس پر مبنی تھا۔ اس نے اس واقعہ پر بدھزم اور جین ازم کو کئی محققین نے مذہب میں شمار نہیں کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ فلسفہ کے اسکول تھے نہ کہ حقیقتہ مذاہب۔ قدیم زمانہ میں چونکہ علم کلام (تھیالوجی) اور فلسفہ الگ الگ نہ تھے، اس لئے بہت آسانی سے فلسفہ، علم کلام اور علم کلام، فلسفہ بن جاتا تھا۔ جین مت اور بدھ مت دراصل فلسفہ کی حیثیت سے پیدا ہوئے مگر زمانہ کے اثر سے بعد کو مذہب کی حیثیت اختیار کر گئے۔ کئی ہندستانی مصنفین مثلاً ڈی ریڈی کو سبھی اور رو میلا تھا پر نے بدھزم کو ایک سوشل فلسفی قرار دیا ہے نہ کہ عام معنوں میں مذہب ۔ (۴۲۸) زیادہ دھیان نہیں دیا کہ چین اور افریقہ اور دوسرے بعض مقامات پر جہاں آباء و اجداد کی پرستش کی مثالیں ملتی ہیں وہاں ان کی پرستش خدا کی پرستش سے الگ دوسرے طریقے سے کی جاتی ہے۔

قدیم زمانہ میں اس قسم کی باتیں محض تفنن پسند لوگ کیا کرتے تھے۔ تاہم ایک سو سال پہلے بہت بڑے پیمانہ پر اس سوال کے جواب کی تلاش شروع ہوئی کہ مذہب کی ابتدائی شکل کیا تھی۔ مگر تحقیق و تلاش کے لمبے سفر کے بعد آدمی دوبارہ وہیں پہنچ گیا جہاں وہ پہلے تھا۔ اب یہ ثابت ہوا کہ مذہبی معتقدات اتنے ہی پرانے نہیں جتنی کہ انسانی تاریخ پرانی ہے۔ ایک لاکھ برس پہلے نیندر تھل انسان (NEANDERTHAL MAN) کو جب مرنے کے بعد دفن کیا گیا تو اس کے ساتھ قبر میں کھانا بھی رکھ دیا گیا تاکہ دوسری دنیا کے سفر میں اس کے لئے زاد راہ کا کام دے سکے اس سے ثابت ہوا کہ انتہائی ابتدائی انسان "بھی مرنے کے بعد زندگی کے تسلسل کا عقیدہ رکھتا تھا۔

"مذہب کیسے شروع ہوا" یہ سوال باقاعدہ طور پر صرف ایک سو سال پہلے وجود میں آیا۔ اس سے پہلے بائبل کی کتاب پیدائش اور قرآن کے زیرِ اثر عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ پہلا انسان (آدم) جب پیدا کیا گیا تو اسی وقت خدا کا الہام بھی اس کو مل گیا جس میں اس کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ سچا مذہب خدا کے نزدیک کیا ہے۔ مذاہب کے علماء عام طور پر یقین کرتے تھے کہ اس ابتدائی مذہب میں بعد کی نسلوں نے پہلی بار بگاڑ پیدا کیا اور اس طرح مذہب کی مختلف شکلیں بنتی چلی گئیں۔ 19 ویں صدی میں خاص طور پر نظریہ ارتقا نے، تعلیم یافتہ طبقہ کے اندر یہ ذہن پیدا کیا کہ مذہب کا ارتقائی مطالعہ کرے اور اس کی ابتدائی شکلیں دریافت کرے۔ یہ فرض کر لیا گیا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page