نجات
الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۸
ارتقا کا اصول ہر معاملہ میں اسی طرح جاری ہے جیسا کہ ڈارون نے حیاتیات میں دکھایا ہے۔
ابتدائی مذہب (PRIMITIVE RELIGION)
اور ترقی یافتہ مذہب (HIGHER RELIGION) کی اصطلاحیں پیدا ہوئیں۔ اس تلاش نے بہت جلد انسان کو اس دریافت تک پہنچا دیا کہ مذہب کی ابتدا محض کچھ وہی خیالات (ILLUSIONS) سے شروع ہوئی۔ دھیرے دھیرے اصلاح ہوتے ہوتے وہ مذہب کی موجودہ ترقی یافتہ شکلوں تک پہنچی۔ اس طرح گویا علمی تجزیہ نے ثابت کر دیا کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی یا سماجی وہم کے سوا اور کچھ نہیں۔ مگر مذہب کے محققین کا یہ یقین دیر تک باقی نہ رہ سکا۔ تحقیق کے بعد کے نتائج نے اس کے ابتدائی نتائج کی تردید کر دی۔
ایڈورڈ بی۔ ٹیلر نے ۱۸۷۱ء میں مذہب کے بارہ میں اپنے نظریہ کی وضاحت کے لئے روحیت مظاہر (ANIMISM) کی اصطلاح وضع کی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ابتدائی انسان نے خواب، ہذیان اور موت کے واقعہ سے یہ نتیجہ نکالا کہ اس کے اندر کوئی غیر فانی روح ہے۔ جب کوئی مرا ہوا شخص خواب میں نظر آیا تو سمجھ لیا گیا کہ انسان کی روح مرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، اٹھیں میں سے کچھ روحیں دھیرے دھیرے دیوتا بھی بن گئیں، اسی زمانہ میں ہربرٹ اسپنسر نے یہ خیال پیش کیا کہ مرے ہوئے لوگ جو بھوتوں کی شکل میں دکھائی دیتے تھے، ان کو دیوتا سمجھ لیا گیا اور ان کی پوجا ہونے لگی۔ مگر ٹیلر اور اسپنسر وغیرہ کے نظریات کا جب بعد کے محققین نے تجزیہ کیا تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ لوگ یہ ثابت کرنے میں نا کام رہے ہیں کہ دور تاریخ سے قبل کا انسان اسی ڈھنگ پر سوچتا تھا اور روحوں اور بھوتوں سے خدا تک پہنچنا محض قیاس پر مبنی تھا۔ اس نظریہ کے حامی اس سوال کا جواب بھی نہ دے سکے کہ اگر مردہ انسانوں کی روح سے خدا کا تصور نکلا تو یہ عالمی کیسے بن گیا جب کہ قدیم زمانہ میں کرہ ارض پر پھیلے ہوئے مختلف قبائل کے درمیان قطعا کوئی مواصلاتی سلسلہ موجود نہ تھا۔ چنانچہ روحیت مظاہر (اینمنزم) کا یہ نظریہ مذہب کی علمی توجیہہ کی حیثیت سے آج عملاً رد کر دیا گیا ہے۔
روحیت مظاہر کا ایک اور نظریہ آر۔ آرمیٹ نے ۱۸۹۹ میں پیش کیا۔ اس نے کہا کہ انسان اولاً شخصی روح (PERSONAL SOUL) کو نہیں مانتا بلکہ غیر شخصی طاقت (IMPERSONAL FORCE) کا عقیدہ رکھتا تھا جس نے دنیا کو زندگی عطا کی ہے۔ اس نے اپنے اس نظریہ کو انیمیٹرم (ANIMATISM) کا نام دیا۔ مگر بعد کی تحقیق نے معلوم ہوا کہ محض ایک لفظی مغالطہ سے اس نے یہ نظریہ قائم کر لیا تھا۔ بحر الکاہل کے کنارے رہنے والے بعض قبائل جن کو میلانییین (MELANESIAN) کہا جاتا ہے، ان کی زبان میں ایک لفظ منا (MANA) ہے۔ میمیٹ نے سمجھا کہ قبیلہ کے لوگ اس کو روحانی طاقت کے معنی میں بولتے ہیں اور غیر شخصی طاقت کا یہی عقیدہ مذہب کی بنیاد ہے۔ اس نے مزید کہا کہ قدیم انسان ”تھنکر“ نہ تھا بلکہ ایکٹر تھا۔ اس طرح اس کا مذہب جادوسے بہت کم مختلف تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ قبائل ”منا“ کا لفظ غیر شخصی طاقت کے معنی میں نہیں بولتے تھے جس نے کائنات کو زندگی عطا کی ہو۔ جیسا کہ میمیٹ اور دوسرے لوگوں نے سمجھ لیا تھا، بلکہ امتیازی روحانی صفت کے معنی میں بولتے تھے۔
۱۸۵۰ میں جیمز فریز نے کتابوں کا ایک سلسلہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues