Al-Risala · March 1977 · page 49

نجات

الرسالہ، مارچ ۱۹۷۷، صفحہ ۴۹

شائع کرنا شروع کیا جن میں سب سے زیادہ خاص سنہری شاخ (THE GOLDEN BOUGH) تھی۔ اس نے اپنی کتاب کا آغاز ایک مقدس درخت کی کہانی سے کیا جو قدیم اٹلی کے ایک مقام اربیاب پر ایک شخص نے لگا رکھا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اس درخت میں کوئی روحانی طاقت ہے اور اس کی مدد سے جادو کے کرشمے دکھائے جاسکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو لے کر فریزر نے ایک نظریہ وضع کیا۔ یہ تھا ۔ جادو پھر مذہب پھر سائنس :

(MAGIC to RELIGION to SCIENCE)

اس نے کہا کہ جادو کے طریقے میں جب پہلی بار ناکامی ہوئی تو انسان نے سمجھا کہ کوئی مافوق ہستی ہے جو اس کی مدد کر کے کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس طرح جادو نے مذہب کی صورت اختیار کرلی۔ پھر انسان منطقی اور تجربیاتی طریقہ تک پہنچا جس کو سائنس کہا جاتا ہے اپنی ارتقائی کشش کی وجہ سے یہ نظریہ شروع میں بہت مقبول ہوا۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس مفروضہ کے لئے کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ جادو پہلے تھا اور مذہب اس کے بعد وجود میں آیا۔ کلچر کے ہر مرحلہ میں، تاریخی دستاویزوں کے مطابق، مذہب اور جادو دونوں ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ اس لئے یہ نظریہ کہ ”جادو پھر مذہب پھر سائنس‘ غیر تاریخی ہے۔ (UNHISTORICAL)

۱۹۲۲ میں لوسین لیوی بروھل نے ابتدائی ذہن (PRIMITIVE MENTALITY) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نے کہا کہ دور قدیم کے وحشی انسان ایک ابتدائی منطقی فکر (PRE-LOGICAL THINKING) استعمال کرتے تھے جو کہ مادی موجودہ فکر سے مختلف تھا۔ اس نے اس نظریہ پر تنقید کی کہ تمام انسان یکساں صلاحیت کے تھے۔ اس نے مثال دی کہ تمام "غیر ترقی یافتہ" قومیں موت کی توجیہہ فطری اسباب کے سوا دوسرے اسباب سے کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک آدمی سادہ طور پر محض بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے نہیں مرتا بلکہ کوئی پر اسرار طاقت ہے جو اس کو مارتی ہے۔ مگر پچھلے سوبرس کے دوسرے شارحین مذہب کی طرح لیوی بروحل بھی محض کرسی نشین مفکر تھا جس کو موجودہ زمانہ کے " ابتدائی انسان" کی خبر نہ تھی۔ حتیٰ کہ وہ اس بات سے بھی بے خبر تھا کہ قدیم انسان کس طرح سوچتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی دور کا انسان بخوبی جانتا تھا کہ موت کس طرح طبیعی اسباب کے تحت ہوتی ہے، اگرچہ اس کے ساتھ وہ ایک روحانی توجیہہ کو بھی اس میں شامل کرتا تھا۔

ایک اور فرانسیسی مصنف امایل در خیم نے (۱۹۱۲) میں مذہب پر اپنی کتاب شائع کی۔ اس نے زور دیا کہ مذہب ایک سماجی واقعہ (SOCIAL FACT) ہے نہ کہ انسان کی نفسیات کی پیدا وار۔ مذہب وہم نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ہر دور میں ہر جگہ پایا گیا ہے۔ اس نے اخلاق اود قانون کے بڑے بڑے نظام قائم کئے ہیں۔ ستاہم درخیم کے نزدیک مذہب خود سماج کی پرستش کا نام تھا، اگر چہ وہ پر اسرار علامتوں کے بھیس میں ظاہر ہوتا ہے۔ در خیم نے اپنا تصور آسٹریلیا کے بعض قدیم قبائل سے لیا۔ مگر اس انتخاب میں در خیم کی غلطی چھپی ہوئی تھی، کیونکہ وہ کبھی آسٹریلیا نہیں گیا۔ اس نے دوسروں کی فراہم کردہ ناقص معلومات پر اپنے نظریہ کی بنیاد رکھ دی اور پھر اس سے مستنبط کر لیا کہ تمام دنیا کے لوگ آسٹریلیا کے انھیں قدیم قبائل کے مطابق عمل کرتے تھے۔ یہ قدیم قبائل بعض پودوں اور جانوروں کو مقدس مانتے تھے اور ان کو کھانا حرام سمجھتے تھے۔ بعض مشابہتوں کی وجہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 1977 All issues

Printed page